Cloud Front

ماسٹر عبداللہ کی سریلی دھنیں انہیں چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھیں گی

پس پردہ موسیقی کے اعتبار سے ساٹھ اور ستر کے عشرے انتہائی زرخیز کہے جاتے ہیں ، یہ وہ دور تھا جب پاکستان فلم انڈسٹری میں ایک سے بڑھ کر ایک باصلاحیت موسیقار اپنی بہترین صلاحیتوں کے اظہار کے لئے موجود تھا، ان موسیقاروں کی دھنوں پر ترتیب دیئے ہوئے بے مثال گیت سماعتوں کے راستے دلوں میں اتر کر سننے والوں کے ہونٹوں پر مچلنے لگتے ،یہ فیرو ز نظامی ، ماسٹر غلام حیدر ، ماسٹر عنائت حسین ، خواجہ خورشید انور ،منظور اشرف ، سلیم اقبال ،رشید عطرے ،منظور اشرف اور اے حمید جیسے موسیقاروں کا تھا ، انہی ناموں میں ایک نام ماسٹر عبداللہ کا بھی تھا ، ماسٹر عبداللہ فن موسیقی سے وابستہ کسبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ،ماسٹر عنائت حسین ان کے فرسٹ کزن تھے جبکہ ایم اشرف اور طافو برادران سے بھی ان کی قریبی رشتہ داریاں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماسٹر عبداللہ کی ڈیبیو فلم ’’سورج مکھی‘‘ تھی او ر انہوں نے اپنی پہلی ہی فلم میں مالا بیگم کو متعارف کروایا ،اس کے بعد ان کو فلم ’’واہ بھئی واہ‘‘ کی موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا اوراس فلم میں ان کے دو گانے زبان زد عام ہوئے جن میں ’’جانے والی چیز کا غم کیا کریں ‘‘ اور ’’یہ جینا کیا جینا‘‘ شامل ہیں ،بعد ازاں فلم ’’ملنگی ‘‘ کی ریلیز کے بعد ایک زمانہ ان کے مداحوں کے حلقے میں شامل ہو گیا .’’ملنگی‘‘ میں ان کی بنائی ہوئیں دھنیں مقبول عام ہوئیں اور خصوصا ان کی دھن میں تیار کیا ہوا گانا ’’ماہی وے ساہنوں بھل نہ جاویں ‘‘ نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ،ان کے دیگر مقبول گانوں میں
۔شکر دوپہر پپلی دے تھلے میں چھنکائیاں ونگاں(نور جہاں)
۔چل چلءئے دنیا دی اوس نکرے جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے (مہدی حسن ، نور جہاں)
۔۔ڈنگ پیار دا سینے تے کھا کے چپ رہیئے (مہدی حسنٓ)
۔۔جان من اتنا بتا دو محبت ہے کیا (رونا لیلٰی )
۔۔جواب دے بے وفا زمانے جواب دے (نور جہاں)
۔۔میرا دلبر میرا دلدار تو ں ایں (تصور خانم)
۔۔تیرے نال نال نال وے میں رہنا (نور جہاں)
۔۔وے چھڈ میری وینی نہ مروڑ(نور جہاں)
۔۔میری ٹور کبوتری ورگی تے دل کرے گٹکوں گٹکوں (نور جہاں)
۔۔وے میں نہ جمدی ڈھولا سے میں نہ جمدی (نور جہاں)
کیرئیر کے آخری دور میں انہوں نے فلم ’’قسمت‘‘ کی موسیقی ترتیب دی جس میں مہدی حسن کا گایا ہوا گانا ’’بابل تیری میری چھو‘‘ بے حد مقبول ہوا ۔ اس کے علاوہ ان کی موسیقی میں ترتیب دیا ہوا فلم ’’شیشے کا گھر‘‘ کا گیت ’’یہ سفر تیرے میرے پیار کا ‘‘کو بھی سننے والوں نے پسند کیا۔
ماسٹر عبداللہ جہاں بے پناہ صلاحیتوں کے مالک موسیقار تھے وہیں وہ اپنے کا م پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنا پسند نہیں کرتے تھے ،اسی بنا پر ان کی میڈم نورجہاں سے ان بن رہتی ، ماسٹر عبداللہ کا کہنا تھا کہ نورجہاں دوران ریکارڈنگ فن موسیقی کی باریکیوں ااور مشکلات سے جان چھڑانا چاہتی ہیں جو ان کو کسی صورت بھی قبول نہیں ، یہی وجہ ہے کہ نورجہان دوسرے موسیقاروں کے گیت چند گھنٹوں میں ریکارڈ کروا دیتی تھیں لیکن ماسٹر عبداللہ کے گیت کی ریکارڈنگ میں انہیں پورا پورا دن لگ جاتا جو نور جہاں کے لئے ہتک آمیز تھا ، یہی بات کئی بار نور جہاں اور ماسٹر عبداللہ کے درمیان تکرار کی وجہ بھی بنتی اور با لآخر نور جہاں نے ماسٹر عبداللہ کے ساتھ کام کرنے سے گریز کرنا شروع کر دیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سب سے زیادہ گانے نور جہاں کی آواز میں ریکارڈ ہو رہے تھے ،لیکن ،نورجہاں نے نہ صرف خود ماسٹر عبداللہ کونظر اندازکرنا شروع کر دیا بلکہ دوسرے پروڈیوسرز حضرات کو بھی کہہ دیا کہ جس فلم کی موسیقی ماسٹر عبداللہ تریب دیں گے وہ اس فلم کے لئے گانا ریکارڈ نہیں کروائیں گی ۔۔۔ایک عظیم گلوکارہ نے ایک باصلاحیت موسیقار کو بے روزگار کر دیا ، ماسٹر صاحب کا فن اظہار کے راستے چاہتا تھا لیکن وہاں ملکہ ترنم نے پہرے لگا رکھے تھے ،یوں ماسٹر صاحب کا فن ان کے اندر ہی گھٹ گھٹ کر دم تو ڑتا رہا ،وہ ظلم و زیادتی پر آواز بھی بلند کرتے لیکن نورجہاں کا دل نہ پسیج سکا ، ماسٹر صاحب بیمار پڑ گئے ، ان کے اندر بیماریوں نے ڈیرے ڈال لئے ، ایک بلند پایہ اور منفرد فنکار شہر کی سڑکوں پر میلوں پیدل چلتا رہا ،چلتے چلتے اس کا سانس پھول جاتا ، اسے بار بار کھانسی کے دورے پڑتے ،وہ دمے کا مریض بن گیا ۔۔۔۔لیکن وہ ایک سچا فنکار تھا ،کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتا ، کسی کی مدد قبول نہ کرتا کہ اسے قدرت نے بے پناہ فن سے نوازا تھا جو اس کے رزق کا ذریعہ بھی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر 23سال پہلے آج ہی کے دن ایک اولڑا فنکار معاشرتی رویوں سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گیا ، ایک عظیم فنکار جس کے اندر ابھی بے شمار سریلی دھنوں کا خزانہ پنہاں تھا ، زندگی کی بازی ہا ر گیا ۔ماسٹر عبداللہ مر گیا ، ایک منفرد فنکار اس جہاں کو چھوڑ کر اپنے رب کے پاس چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔