Cloud Front

ٹرمپ پالیسی، امریکی ڈالر30سالوں کی کم ترین سطح پر آگیا

ہانگ کانگ اور ٹوکیو فوریکس ٹریڈز میں ڈالر کی شرح تبادلہ 113 ین، جب کہ پاؤنڈ اسٹرلنگ کے تبادلے اپ کے ساتھ 1.2580 ڈالر اور یورو کی شرح تبادلہ ڈاؤن کے ساتھ 1.0792 ڈالر رہے
ٹرمپ پر الزامات ہیں کہ وہ جاپان، جرمنی اور چین اپنی اپنی کرنسی مارکیٹ میں گڑ بڑ کر رہے ہیں، دنیا بھر میں کرنسیوں کی نئی جنگ چھڑ گئی

نیویارک / ٹوکیو/ برلن: امریکی ڈالر کی قدر میں 30سالوں میں سب سے بڑی کمی واقع ہوگئی، امریکی صدر ٹرمپ کے الزامات کے بعد مختلف ممالک کے مابین کرنسی کی نئی جنگ چھڑ گئی۔ امریکی صدر ٹرمپ پر الزامات ہیں کہ وہ جاپان، جرمنی اور چین اپنی اپنی کرنسی مارکیٹ میں گڑ بڑ کر رہے ہیں، ان ممالک نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کی ہے، ٹرمپ کے الزامات کے بعد دنیا بھر میں کرنسیوں کی نئی جنگ چھڑ گئی۔دوسری جانب عالمی منڈیوں میں مندی کا رجحان رہا، جاپان اور ہانگ کانگ کی مارکیٹیں کاروبار کے آغاز پر گراؤٹ کا شکار ہیں۔ایشیائی فوریکس مارکیٹس امریکی ڈالر بدھ کوبھی دباؤ میں رہا اور اس کی شرح تبادلہ میں ایشیاء4 کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے کمی رہی۔

ہانگ کانگ اور ٹوکیو فوریکس ٹریڈز میں ڈالر کی شرح تبادلہ 113 ین، جب کہ پاؤنڈ اسٹرلنگ کے تبادلے اپ کے ساتھ 1.2580 ڈالر اور یورو کی شرح تبادلہ ڈاؤن کے ساتھ 1.0792 ڈالر رہے۔ایشیاء4 کی بیشتر اسٹاک مارکیٹس میں بدھ کو بھی مندی چھائی رہی۔ مرکزی ٹوکیو اسٹاک کا نکی225 انڈکس 0.54 فیصد یا 103.19 پوائنٹس ڈاؤن کے ساتھ 18938 اور ٹاپکس انڈکس تمام پہلے سیشنز میں 0.83 فیصد ڈاؤن کے ساتھ 1509 کی سطح پر بند ہوئے۔ہانگ کانگ کا مرکزی ہینگ سینگ انڈکس نے بھی 0.71 فیصد یا 165.55 پوائنٹس گنوائے اور 23 ہزار195 کی سطح پر بند ہوا۔چین کی شنگھائی اور شنزن سٹاک مارکیٹس عوامی تعطیل کی وجہ سے بند رہیں۔ علاوہ ازیں امریکی اسٹاک بھی دباؤ سے باہر نہ آسکے، وال اسٹریٹ میں مسلسل مندی کا عمل بدھ کو بھی جاری رہا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈکس0.1 فیصد ڈاؤن کے ساتھ 2278.87 اور ڈوجونز انڈکس 0.5 ڈاؤن کے ساتھ 19864 کی سطح پر بند ہوا۔