Cloud Front

غیر رجسٹرڈ سٹنٹ: سپریم کورٹ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے جواب طلب کرلیا

غیر رجسٹرڈ سٹنٹ از خود کیس
سپریم کورٹ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے جواب طلب کرلیا
دل کا عارضہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے،گزشتہ روز جسٹس عظمت سعید کو ہونے والی دل کی تکلیف سے تجربہ ہوا ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار کے دوران کیس ریمارکس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں غیر رجسٹرڈ اسٹنٹس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ملک بھر میں ایسے اسٹنٹس استعمال ہورہے ہیں جو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظور شدہ نہیں ہیں یہ المیہ ہے کہ بیمار اور بالخصوص دل کے مریض کو صحیح دوائی نہ مل سکے ۔ اسٹنٹس ڈالنے کا فیصلہ ایک اچھا کارڈیالوجسٹ ہی کرسکتا ہے تاہم جب تک عدالت مطمئن نہیں ہوتی معاملے کی نگرانی کرتے رہیں گے ۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس مقبول باقر پرمشتمل تین رکنی بینچ نے کی عدالت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے دس دن کے اندر ملک میں استعمال ہونے والے رجسٹرڈ اسٹنٹس کے حوالے سے معلومات طلب کرلی ہیں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ اس حوالے سے عدالت کوئی ایسا حکم نہیں دے گی

جس سے افراتفری پیدا ہو ماضی میں جو ہوگیا سو ہوگیا میڈیا اپنے تبصروں سے افراتفری پیدا کرنے سے احتیاط کرے اگر یہی صورتحال رہی تو عدالت اس حوالے سے بھی حکم جاری کرسکتی ہے جبکہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسٹنٹس کی قیمت معیار اور رجسٹرڈ سرٹیفکیٹ آویزاں ہونے چاہیے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دل کا عارضہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے اس حوالے سے گزشتہ روز جسٹس عظمت سعید کو ہونے والی دل کی تکلیف سے تجربہ ہوا ہے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ پہلے ادویات کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے اس کے بعد فروخت کی اجازت ہوتی ہے رجسٹریشن اورڈرگ ریگولیٹری کے عمل میں تکنیکی طور پر تاخیر ہوتی ہے جبکہ سی ای او ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ڈاکٹر اسلم نے عدالت کو بتایا کہ رجسٹریشن کے عمل میں تبدیلی کی گئی ہے اس وقت ملک میںٰ68اسسٹنٹ رجسٹرڈ ہیں جبکہ 37کمپنیوں کی درخواستیں رجسٹریشن کے مراحل میں ہے عدالت نے سیکرٹری کیڈ کو اجلاس میں بلا کر اسٹنسٹس کی درآمد کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت سات فروری تک ملتوی کردی