Cloud Front

لیڈر یا مینیجر. . . .محمد بلال افتخار!

معاشرتی علوم کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی کردار اُس کے ظرف اور عظمت کا پتہ دیتا ہے۔ تاریخ عالم اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ کردار والی قومیں بُرے سے بُرے حالات میں نا صرف ان حالات سے نکل آتی ہیں بلکہ سخت حالات سے کندن بن کر نکلتی ہیں۔
لیڈر اور مینیجر کے درمیاں سب سے بڑا فرق یہی ہوتا ہے کہ لیڈر صاحب کردار ہوتا ہے اور مثال قائم کر کے لوگوں کو مجبور کرتا ہے کہ اُس کی پیروی کریں جبکہ مینیجر پر کسی قسم کا اخلاقی بھار نہیں۔
لیڈر کی کامیابی اُس کی عظمت کردار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی لیڈر پر الزام آتا ہے تو وہ اپنا منصب چھوڑ کر خود کو ا حتساب کے لیئے پیش کر دیتا ہے۔ ترقی یافتہ اقوام اور ترقی پزیز ممالک کے درمیان ایک بڑا فرق بھی کردار والی لیڈر شپ اور کرپٹ مینیجیریل طرز حکومت کا ہے ۔
رچرڈ نکسن امریکہ کے 37thپریزیڈنٹ تھے۔ جب 1972کے اوائل میں واٹر گیٹ اسکینڈل سامنے آتا تو انہوں نے استعفٰی دے دیا کیونکہ بصورت دیگر اُن کا محاسبہ کانگرس کرتی۔۔رچرڈ نکسن نے استعفیٰ دے کر ایک بڑی شرمندگی روک دی اور ہمارے حکمرانوں کے برخلاف یہ اقرار کیاکہ اُن کی پالیسی غلط تھی۔ اسی طرح نکسن کے نائب صدر سپیرو ایگنیو نے بھی کرپشن کے الزام کی بنا پر استعفیٰ دے کر سسٹم کو نا صرف بچایا بلکہ مضبوط کیا۔
اسرائیل کی آئرن لیڈی اور چوتھی وزیر اعظم گولڈا میر نے 197کی عرب اسرئیلی جنگ کے بعدصرف اس لیئے استعفٰی دے دیا کہ آپوزیشن اس بات پر تنقید کر رہی تھی کہ اسرائیل عرب ممالک سے لڑنے کے لئے تیار نا تھا۔ گولڈا میر نے اپنے کردار کی عظمت مظاہر ہ کرتے ہوئے استعفٰی دے دیا جبکہ ہمارے وزراء نہایت بے شرمی سے ہر حادثے کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ میرے استعفٰے سے کیا اثر پڑے گا شاید یہی لیڈر اور مینیجر کا فرق ہے۔
ہنگری کے وزیر اعظم پال شمیٹ ایک مقبول عوامی لیڈر تھے جو یورپی پارلیمنٹ کے نائب صدر بھی رہے۔ 2012میں انہوں نے ایک میگزین میں چھپی ایک رپورٹ جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے ڈاکٹریٹ کے تھیسسز میں نقل کی تھی کی بنا پر استعفٰی دے دیا ۔ اُن کا استعفٰی اُن کے کردار کی مضبوطی کا مظاہر ہ تھا جو پاکستانی سیاستدانوں میں نظر نہیں آتا ۔
5اپریل کو پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے ٹھیک دو دن بعد آئس لینڈکے وزیر اعظم سگمنڈ ڈیوڈ نے استعفٰی دینے کا اعلان کر دیا اور7اپریل کو مستعفیٰ ہو گئے ۔ اُن کے استعفٰے کی بڑی وجہ اُن کا ایک ٹی وی کو دیا انٹرویو تھا جس میں انہوں نے غلط بیانی کی تھی اور اثاثے چھپائے تھے۔ پانامہ پیپرز کی اشاعت سے غلط بیانی بے نقاب ہو گئی۔ ۔

دو ہزار سولہ میں گویٹے مالا کے صدر اوٹو پیریزنے استعفٰی دے دیا کیونکہ اُن پر کرپشن کا الزام تھا۔
میڈیا اور اپوزیشن کی جانب سے تنقید پر شرمندگی محسوس کرتے ہوئے اوٹو پیریزنے استعفٰی دے کر ایک ایسی مثال قائم کی جو شاید تیسری دنیا کی ممالک میں کوئی نہیں سوچ سکتا۔

حال ہی میں برطانوی وزیر اعظم نے ڈیویڈ کیمران نے بریکسٹ ریفرنڈم میں برطانوی عوام کے فیصلے کی تعظیم میں استعفٰی دے دیا کیونکہ اُن کے خیال میں یورپی یونین میں رہنا برطانوی مفاد میں تھا جبکہ عوام نے اس کے برخلاف فیصلہ دیا۔ ڈیوڈ کیمرون نے جب دیکھا کہ عوام اور اُن کی سوچ کئی معاملات میں مختلف ہے تو انہوں نے عوام کے حق میں فیصلہ دیا اور اپنی عزت نفس کو بھی نا چھوڑا کاش ہمارے حکمران بھی یہ بات سمجھ جائیں کے لیڈر کو اپنے کردار کے بنا پر یاد رکھا جاتا ہے جبکہ مینیجر وقت پورا کر کے ہمیشہ کے لئے گم نام ہو جاتا ہے اور کوئی دل اُسے یاد نہیں رکھتا




محمد بلال افتخار خان پروگرام کھرا سچ سے وابستہ ہیں بین الاقوامی معاملات میں کافی گرفت رکھتے ہیں قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں بھی لکھتے ہیں اورسٹریٹیجک سٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری رکھتے ہیں