Cloud Front
Babar Awan

پاناما کیس میں وزیر اعظم کو کلین چٹ نہیں ملے گی ،بابر اعوان

شریف فیملی کے پاس دفاع کیلئے کچھ ہوتا تو وہ متبادل ٹریک ٹو نہ اپناتے،صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد: سینیٹر بابر اعوان نے کہا کہ پانامہ لیکس کے مقدمے میں اگر وزیر اعظم کے خاندان کے پاس دفاع ہوتا تو وہ متبادل ٹریک ٹو نہ اپناتے ،وزیر اعظم کو کسی صورت کلین چٹ نہیں ملے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی ایما پر نئی ای سی ایل لسٹ بنائی جارہی ہے ، نواز شریف امریکی صدر کو دکھانا چاہتا ہے کہ میں آپ کا وفادار ہوں، انہوں نے کہا کہ پانامہ میں جائیداد تسلیم کرنے کے بعد تین طرح کے فیصلے آسکتے ہیں، ایک جائیداد پر کلین چٹ نہیں ملے گی کیونکہ وہ جائیداد تسلیم کر چکے ہیں،

پہلی بار عدالت ہر سطح پر سماعت کررہی ہے کہ کسی کو شکوہ نہ ہو کہ کسی کو نہ سنا، بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کے والد صاحب کی سفری ٹریل، رقم کے ثبوت تین جگہ سے مل سکتے ہیں، کونسل جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن سے ریکارڈ مل سکتا ہے، ریکارڈ پر جو ٹریل ثابت ہو چکا ہے وہ پڑھا جائے گا اور جو ثابت ہو چکاہے وہ اسحاق ڈار کا بیان ہے، اس کے بیان میں سپورٹو، بیان حلفی، سمیت معافی نامہ موجود ہے، اسحاق ڈار کے بیان پر پانامہ ثابت ہو گیا ہے، وزیر اعظم کی نااہلی سندہ ہائی کورٹ بار کے فیصلے سے ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اسی گراؤنڈز پر جنرل مشرف کو الیکشن سے نااہلی ہوئی، بابر اعوان نے کہا کہ پانامہ کیس میں فیئر ٹرائل کا عمل مکمل ہو چکا ہے، پانامہ کیس میں نواز شریف کو کلین چٹ نہیں مل سکتی ہے، پانامہ کیس میں پانامہ لیکس کو کسی فریق کے وکیل نے مسترد نہیں کیا.