Cloud Front
Ch Nisar

امریکی صدر کے حکمنامے نے مسلمانوں کی عزت نفس کو مجروح کیا ، چوہدری نثار علی خان

ہر داڑھی والے مرد اور حجاب والی عورت کو دہشتگرد نہیں سمجھنا چاہیئے،مسائل کے حل کی کنجی بات چیت میں پوشیدہ ہے ،ملکی سرحدیں بند کر کے خود کو محفوظ سمجھنا درست اور دا نشمندانہ فیصلہ نہیں ہے ،وزیرداخلہ کا این ڈی یو میں خطاب

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم نامے نے مسلمانوں کی عزت نفس کو مجروح کیا، دہشتگردی کو کسی مذہب سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ ہر داڑھی والے مرد اور حجاب والی عورت کو دہشتگرد نہیں سمجھنا چاہیئے۔ تحریک آزادی اور دہشتگردی میں فرق کرنا چاہیئے، امن و امان کی کنجی بات چیت میں مضمر ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی (این ڈی یو) میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا حالیہ حکم نامہ تعصب پر مبنی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ سکیورٹی کثیر الجہتی مسئلہ ہے اور مخصوص صفات و خصوصیات کی بناء پر کسی ملک یا قوم کے لئے اپنے ملک کی سرحدیں بند کر کے خود کو محفوظ سمجھنا درست اور دا نشمندانہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اس کے محرکات کا غیر جانبدارانہ اور باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیئے نہ کہ ہر داڑھی والے مرد اور حجاب والی عورت کو دہشتگرد سمجھا جائے یا عوام کے لئے دو مختلف قسم کے قوانین بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں سکیورٹی ضروریات اور حالات مغربی ممالک سے مختلف ہیں اس لئے اس مسئلے کو تعصب کی عینک اتار کر حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھنا چاہیئے۔

پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیش بہا قربانیاں دیں لیکن اس کے باوجود نہ صرف خطے میں امن و امان کے قیام کے لئے لچک دار پالیسی پر عمل پیرا ہے بلکہ عالمی دنیا کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے کھڑا ہے مگر بعض قوتیں سکیورٹی کو سیاست سے ملاتی ہے ۔

جس سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی اور تحریک آزادی میں فرق کرنا چاہیئے۔ دونوں کو جوڑ کر ظالم اور مظلوم کو ایک ہی طرح ڈیل نہیں کہا جا سکتا بلکہ مناسب حکمت عملی کے تحت مختلف قوتوں اور دھڑوں سے نمٹنا چاہیئے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دنیا کی مقتدر قوتوں کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کو بھی دہشتگردی اور سکیورٹی کو سیاست سے ملانے سے گریز کرنا چاہیئے اور مذاکرات کے عمل کے تحت مسائل کا حل کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جو قوتیں مذاکرات کی بجائے پروپیگنڈے اور جنگوں کو مذاکرات پر ترجیح دیتے ہیں عالمی دنیامیں ان کا مقدمہ کمزور ہوتا ہے اور خطے میں امن و امان کے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتے ہیں اس لئے مناسب یہی ہے کہ مذاکرات کو تمام مسائل کے حل کے لئے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے کیونکہ مسائل کے حل کی کنجی بات چیت میں مضمر ہے۔