Cloud Front
SUprem Court

سوات میں ایسی شریعت نافذہے جہاں عید کے روز بھی دشمن، دشمن سے نہیں ملتا، سپریم کورٹ

ماں ،بہن ،بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا، پولیس کی ناقص تفتیش انصاف میں رکاوٹ ہے،پولیس ہی سچ اور جھوٹ کا پتہ چلا سکتی ہے، جسٹس دوست کے ریمارکس
عدالت نے قتل مقدمے میں ملزم جاوید کی ضمانت منظور جبکہ ملزم امان اللہ کی درخواست خارج کر دی

اسلام آباد : جسٹس دوست محمد خان نے قتل مقدمے کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ سوات میں ایسی شریعت نافذ ہے جہاں عید کے روز دشمن دشمن کو نہیں ملتا، ماں ،بہن اور بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا ۔جمعرات کے روز قتل مقدمے کیس کی سماعت جسٹس دوست محمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ،سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں ملزم جاویداحمد کی ضمانت منظورکرتے ہوئے ملزم امان اللہ کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پرخارج کردی جبکہ دوران سماعت جسٹس دوست محمد خان نے انصاف کرنے میں پولیس کی ناقص تفتیش رکاوٹ ہے، غلط تفتیش کی بنا پر پولیس اب عدالتوں کے لیے قابل اعتبار نہیں رہی ، سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے ملزمان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ملزمان پرجائیدادکے تنازع میں محمد فاروق نامی شخص کوقتل کرنے کاالزام ہے، وقوعہ 25نومبرکوسوات کے علاقے میں پیش ،

اس موقع پر جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوات میں وہ شریعت نافذ ہے جس میں حکومتی واجبات ادانہ کرنے پڑیں۔ وراثت میں ماں بہن بیٹی کو شامل نہیں کیا جاتا، عید کے روز بھی دشمن دشمن سے نہیں ملتا، انصاف کرنے میں پولیس کی ناقص تفتیش رکاوٹ ہے، پولیس چاہے تو سچ جھوٹ کاپتاچلاسکتی ہے، تفتیش اندھیری ہوگی تو ملزم رہاہی ہوں گے،مقدمے کے اندراج کے 10گھنٹے بعد پولیس کو گناہ گاراوربیگناہ کا پتاچل جاتاہے، غلط تفتیش کی بناپر پولیس اب عدالتوں کے لیے قابل اعتبار نہیں رہے، دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور دو شخصی ضمانتوں کے عوض ملزم جاوید احمد کی ضمانت منظور کر لی جبکہ درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر ملزم امان اللہ کی درخواست ضمانت خارج کردی، یاد رہے کہ ملزمان کی ضمانتیں ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ سے مستر ہو چکی تھیں