Cloud Front
Mustafa Kamal

سندھ پاکستان کا اہم صوبہ ہے یہاں کے لوگ بدحالی کی زندگی گزار رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

آج کمیشن کے سامنے میں نے پانی کے مدائل پر بات کی ہے

کراچی: مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں 12 سو 40 ملین گیلن پانی کی ضورت ہے جو کی 600 ملین گیلن پانی مل رہا ہے، کے 4 فیس ایک اور 2 دونوں فیالفور سروع کیا جائے، کراچی کا کوئٹہ پانی کا 12 سو کیوسک منظور کیا جائے، جس کے بعد کراچی کو 5۔1 فیصد پانی ملے گا، ہر حال میں پانی کی منصفانہ تقسیم نہ ہوگی سارے منصوبے بیکار ہیں، پانی کی لاینوں پر غیر قانونی ہائیڈرنٹس بنے ہیں کیسے پانی آئے گا، آپ سارے منصوبے بنا لیں جب تک منصفانہ تقسیم نہ ہوگی سارے منصوبے بیکار ہیں، میں نے اپنے زمانے میں 80 کروڑ کے میٹر منھوائے تھے، جو کہ پانی کی تقسیم کے عمل میں مدد گار ثابت ہوتا، ہم نے ایک کمان اینڈ کنٹرول بنانا چاہیے،

آج تک کراچی والو مین کے ہاتھوں رول رہا ہے،آج کا دور والو مین کا نہیں ہے، سیوریج ٹریٹمنٹ ایس تھری اپنے زمانے میں بنایا تھا،ساڑے تین سو ملین گیلن پانی کی نکاسی کا عمل اس سے ارام سے ہو جاتا ،آج ایک قطرہ پانی ٹریٹ نہیںبہو رہا، سارے ٹریٹمنٹ پلانٹ خراب ہیں. ہماری سبمرین کا نظام جس کے باعث تباہ ہو رہا ہے، وزیر اعظم صاحب کراچی کا سمندر صرف کراچی کا نہیں ہے پورے پاکستان کا ہے اس بات کو سوچیں.پانی کی مافیا میرے زمانے میں کم تھی میرے زمانے میں پانی کی چوری تھی مگر اج پانی کے ڈکیت ہیں.اج ہر کسی کی ملی بھگت سے پانی چوری ہو رہا ہے ، اس چوری کو روکنے کے لئے جدید تیکنالوجی متعارف کرائی جائے، مئیر کے آفس کو پاور ہونا چاہیے اج کا مئیر بھالے ہی خواب ہے لیکن ائندہ ہوسکتا ہے مئیر بہتر ہو، مئیر کو واٹربورڈ کا چئیرمین ہونا چاہئے، مئیر کو بھی چاہیے اپنے اختیارات نچلے سطح پر منتقل کرے