Cloud Front

وائٹ ہاؤس کی پاکستانیوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی خبروں کی تردید

مزید ممالک پر امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘ترجمان

واشنگٹن، لندن: وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے پاکستانی شہریوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں مزید ممالک کو شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ’اس حوالے سے بہت ساری افواہیں ہیں’ اور اس حوالے سے ’جلد کچھ ہونے والا ہے ان کے علم میں نہیں ہے۔‘ ترجمان کے مطابق ایگزیکٹیو آڈر میں شامل ممالک امریکی حکام کو وہ معلومات فراہم نہیں کر رہے تھے جو یہاں کے شہریوں کو امریکہ سفر کرنے کے لیے امریکی حکام طلب کر رہے تھے تاہم ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں جیسا کہ افغانستان، پاکستان اور لبنان میں حکام مطلوبہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اس میں تبدیلی ہوتی ہے تو ان ممالک یا دیگر ممالک کو فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ مسلمان اکثریتی ملک پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جن کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی تاہم اس حوالے سے پاکستانی شہریوں میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ جلد ہی یہ پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق امان سلمان نیویارک کے علاقے لونگ آئی لینڈ میں چھوٹے پیمانے پر ایک ٹویول ایجنسی چلاتے ہیں اور ان کے بیشتر صارفین پاکستانی نڑاد شہری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعے سے ایگزیکٹیو آڈر کے بعد انھیں بیشتر کالز ٹکٹ منسوخ کرنے کے لیے موصول ہوئی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ‘گرین کارڈ رکھنے والے کم از کم 95 فیصد صارفین جنھوں نے کئی ماہ پہلے سے پاکستان کی ٹکٹیں بک کروا رکھیں تھیں منسوخ کروا چکے ہیں۔’ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹیو آڈر کے مطابق شامی پناہ گزینوں کے داخلے غیرمعینہ مدت کے لیے پابندی ہے جبکہ عراق، شام، ایران، سوڈان، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے تمام شہریوں کے داخلوں پر بھی پابندی عائد ہے۔

امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحتی بیان کے مطابق اس پابندی کا اطلاق گرین کارڈ رکھنے والے شہریوں پر نہیں ہے لیکن اس حوالے سے پھر بھی ابہام پایا جاتا ہے اور ہوائی اڈوں پر اس آرڈر کے اطلاق کے بارے میں بے ضابطگیوں کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔ ویزا کی یہ پابندی 90 دن کے لیے ہے تاہم انتظامی اہلکاروں نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ اس کو دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ہو سکتا ہے اس میں مزید ممالک شامل کیے جائیں۔