Cloud Front
UNO

میانمار انسانی حقوق کی سنجیدہ خلاف ورزیاں کر رہا ہے: اقوام متحدہ

انسانی حقوق کی خلاف ورز یو ں میں گینگ ریپ، چوں کو قتل کرنا اور تشدد کرنا شامل ہے،روہنگیا مسلمانوں کے گھروں، تعلیمی اداروں اور مساجد کو فوج اور پولیس نے ملکر آگ
لگا ئی ، رپو رٹ

نیو یارک: اقوامِ متحدہ نے میانما ر کی سکیورٹی فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سنجیدہ نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں جن میں گینگ ریپ، چوں کو قتل کرنا اور تشدد کرنا شامل ہیں۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے یہ الزامات ایک رپورٹ میں عائد کیے گئے ہیں جن میں ان 200 سے زیادہ روہنگیا مہاجرین کے انٹرویوز ہیں جو میانمار سے بنگلہ دیش بھاگ گئے تھے۔ایک ماں نے ان لمحات کو یاد کیا جب اس کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو روکنے کے لیے اس کی بچی نے کوشش کی تھی تاہم اسے قتل کر دیا گیا تھا۔وہ کہتی ہیں کہ ایک شخص نے کہا ‘ ایک بڑی چھری لو اور اس کا گلا کاٹ کر اسے مار دو۔

‘ایک اور کیس میں ایک آٹھ ماہ کی بچی کو قتل کیا گیا اور اس کی والدہ گینگ ریپ کا نشانہ بنیں۔ایک اندازے کے مطابق 65 ہزار مسلمان میانمار سے بنگلہ دیش کی جانب بھاگ چکے ہیں۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے کیے جانے والے نصف افراد کے انٹرویوز ان لوگوں سے کیے گئے ہیں جنھیں یا تو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا یا پھر ان کے خاندان کے افراد ہلاک ہوئے۔101 خواتین جن سے انٹرویو لیا گیا میں سے 52 نے بتایا کہ ان کا ریپ ہوا تھا۔بہت سے لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ روہنگیا مسلمانوں کے گھروں، تعلیمی اداروں اور مساجد کو فوج اور پولیس ملکر آگ لگا رہی ہے۔بہت سے ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ فوج نے جان بوجھ کر بہت سے گھروں کو آگ لگائی، اوربہت سے دیگر کیسز ایسے تھے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ روہنگیا کے گھروں کو آگ لگا کر انھیں اس میں دھکیل دیا گیا تھا

تشدد کا نشانہ بننے والوں کا کہنا ہے کہ جب ان پر تشدد کیا جاتا تو حملہ کرنے والے یہ کہتے تھے کہ اب تمھارا اللہ کیا کر سکتا ہے؟ دیکھو ہم کیا کرتے ہیں؟اقوامِ متحد کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید راعد الحسینی نے اپنے پیغام میں کہا ہے ‘میں بین الالقوامی برادری سے کہتا ہوں کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ میرا ساتھ دیں تاکہ میانمار کے حکام پر وہاں فوجی آپریشن بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔‘خیال رہے کہ میانمار کے حکام پہلے ہی ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں کہ وہاں کوئی فوجی آپریشن ہوتا ہے یا لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔تاہم سوچی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ میانمار پر بہت سنجیدہ نوعیت کے الزامات لگے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پورے معاملے کو فوری طور پر دیکھا جائے گا۔