Cloud Front

طاہرہ سید کی والدہ، کشمیری گیتوں کی بے تاج ملکہ پکھراج کی 13ویں برسی آج منائی جا رہی ہے!

کشمیری گیتوں کی بے تاج ملکہ پکھراج کی 13ویں برسی آج منائی جا رہی ہے ،انہوں نے کم سنی میں ہی شہرت کی منازل طے کر لی تھیں۔۔۔

لاہور (طارق مسعود سے ) ملکہ پکھراج نے 17اگست 1912میں جموں و کشمیر کے ایک گاوں حمیر پور سدھر میں آنکھ کھولی ، ان کا بچپن ایک ایسے گھرانے میں ہوئے جو موسیقی کے ماحول میں رچا بسا ہوا تھا ، ان کا موسیقی کی جانب میلان دیکھتے ہوئے چار سال کی عمر میں ہی استاد دعلی بخش قصوروالے کی شاگردی میں دے دیا گیا جو استاد بڑے غلام علیخاں کے والد تھے ، انہوں نے پانچ سال کی عمر میں استاد مومن خاں،استاد اللہ بخش تلونڈی والے اور استاد عاشق علی سے نرت بھاو کی تعلیم حاصل کی ،اسی دوران اس کم سن گلوکارہ کے چرچے موسیقی کے حلقوں میں ہو چکے تھے.

اسی دوران ان کے فن کی شہرت کشمیر کے مہاراجہ کے دربار میں پہنچ چکی تھی اور انہیں کشمیر کے نئے مہاراجہ ہر ی سنگھ کی تاجپوشی کے موقع پر دربار میں گانے کے لئے مدعو کیا گیا ،اس وقت ان کی عمر نو برس تھی ۔ملکہ پکھراج نے جب دربار میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو مہاراجہ ہر ی سنگھ ان کی آواز کا جی جان سے دیوانہ ہو گیا اور ملکہ پکھراج کو درباری گائیکہ بننے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کر لی ، جوں جوں وقت گزرتا رہا مہاراجہ ہر ی سنگھ کے دل میں ملکہ پکھراج کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا رہا ۔ملکہ پکھراج کا عمل دخل بھی مہاراجہ کے دربار میں بڑھتا گیا اور ایک وقت ایسا بھی آ یا جب مہاراجہ کے کسی فیصلے پر ملکہ پکھراج کے مشورے یا منظوری کے بغیر عمل نہیں کیا جاتا تھا ۔پھر جب مہاراجہ ہر ی سنگھ کو زہر دینے کی سازش منظر عام پر آئی تو اس سا رے واقع کا الزام ملکہ پکھراج پر لگا اور مہاراجہ ہری سنگھ نے ملکہ کو کشمیر سے چلے جانا کا کہا ، یہ بھی مہاراجہ کی ملکہ پکھراج سے محبت کا ثبوت ہے ورنہ وہ انہیں ان کی جرم کی کوئی بھی سزا دے سکتا تھا.

اس واقع کے بعد ملکہ پکھراج لاہور چلی آئیں اور یہاں آ کر انہوں نے ایک سرکاری افسر سید شبیر حسین شاہ سے شادی کر لی جس میں سے ان کے چھ بچے ہیں ،جن میں ان کے انداز کو گائیکی کا اسلوب بنانے والی ان کی بیٹی گلوکارہ طاہرہ سید بھی شامل ہیں ، ان کی دوسری بیٹی تسنیم ظفر کی شادی معروف قانون دان ایس ایم ظفر سے ہوئی جو اس رشتہ کی بنا پر ان کے داماد ہیں جبکہ گلوکارہ روشانے ظفر ان کی نواسی ہیں۔۔

پاکستان آنے کے بعد بھی ملکہ پکھراج نے گائیکی کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیری اور پہاڑی گیت گا کر اپنے فن کی ترویج جاری رکھی۔ انہیں حکومت پاکستان نے فنی خدمات کی بنا پر تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا ۔

ملکہ پکھراج نے چند فلمیں بھی پروڈیوس کیں جن میں کاجل ،شمی ، ڈاک بنگلہ اور چار دن شامل تھیں ، انہوں نے ان میں کچھ فلموں میں اپنی آواز کا جادو بھی جگایا ۔۔۔۔وہ نوے برس کی طویل عمر گزار کر آج سے تیرہ سال پہلے آج ہی کے دن اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ان کی آواز کے متوالے آج بھی ان کے فن کی قدر کرتے ہیں۔