Cloud Front
Amna Mufti

کالم. . . شہر لاہور اندر. . . آمنہ مفتی

یہ ہمارا لاہور جسے لوگ کہتے ہیں، ’لوہ‘ نے آباد کیا۔ ( محترم لوہ صاحب کی سمادھی اللہ کی قدرت سے شاہی قلعے میں برآمد ہوئی اور اب مرجع خلائق ہے)۔
لوہ نے جب یہ شہر آباد کیا ہو گا تو راوی اپنے پورے زوروں میں بہتا ہو گا۔
یقیناً یہ شہر اس دریا کے قریب کسی ٹیلے پہ آباد ہو ا ہو گا۔ چند گلیاں، موڑ، شیشم، کیکر کے درخت ایک منزلہ مکانات اور ان میں بسنے والے اولین’لاہوڑیے۔‘
ہو سکتا ہے یوں نہ ہو اور یہ ایک عالی شان قلعے اور امرا کی حویلیوں پہ مشتمل شہر ہو، جہاں راوی سے نکالی نہریں سرسبزہ پھیلاتی ہوں۔ جو بھی تھا، لیکن آج جو لاہور میرے سامنے ہے اسے بسانے کا خواب کس نے دیکھا ہو گا؟

شہر لاہور ایک عجیب شہر تھا جہاں 12 دروازے اور ایک موری تھی اور جہاں صرف وہ کنوئیں میٹھے تھے، جن سے معشوق پانی بھر گئے تھے اور وہی اینٹیں ٹوٹی تھیں جن پہ عاشق پاؤں دھر گئے تھے۔ لاکھوں دروازوں اور لاکھوں کھڑکیوں والا یہ شہر اور اس کے باسی جنھیں اپنی گلیوں محلوں ،سنگتوں اور ساتھوں سے پیار تھا، جانے کیوں بدل گئے۔
وقت کے ساتھ تبدیلی کا قانون فطرت نے بنایا ہے، لیکن لاہوریوں اور لاہور کے ساتھ کچھ عجیب سانحہ سا ہو گیا ہے۔ یہ دونوں کہیں اندر سے بدل گئے ہیں۔ نہ وہ شہر ہی وہ شہر رہا اور نہ اس کے لوگ ہی وہ لوگ رہے۔
کرشن نگر، سمن آباد، شام نگر وغیرہ وہ آبادیاں تھیں جو پاکستان بننے کے وقت نئی بس رہی تھیں۔ ان آبادیوں کا مقصد، لوگوں کو رہائش فراہم کرنا تھا۔ لاہور سے دور ماڈل ٹاؤن کی آبادی 1880 کے لگ بھگ بننا شروع ہو چکی تھی اور اس وقت مکمل آباد تھی۔
اندرون شہر مکان تھے، حویلیاں، کٹڑیاں، محلے، مکانوں کے بیچوں بیچ کھلے مگ۔ شاہدرے اور شالیمار باغ کی طرف حویلیاں اور باغات تھے۔ مال اور مزنگ پہ بڑی بڑی انگریزی وضع کی کوٹھیاں اور بنگلے۔

یہ لاہور تھا اور یہاں لاہور والے رہتے تھے۔ پھر گلبرگ بنا، شہر کے مزاج میں پہلا نخرہ آیا۔ شہر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، گلبرگ اور لاہور۔
اقبال ٹاؤن بنا اور جلد ہی لاہور کے چاروں طرف آبادیوں کا جنگل ایسے اگنے لگا جیسے سوئے ہوئے محل کے چاروں طرف کانٹوں کا جنگل اگ آیا تھا۔ ٹاؤن شپ، جوہر ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، یہ ٹاؤن وہ ٹاؤن۔ جوں جوں راوی سوکھتا گیا، توں توں ٹاؤن اگتے گئے۔
ان ٹاؤنوں میں کیا لاہور والے رہتے ہیں؟ نہیں ان ٹاؤنوں میں جنوبی پنجاب سے آئے وہ لوگ مقیم ہیں جن کے خیال میں ‘لاہور میں وہ چورن ہے جو ہر وحشت کو کھا جاتا ہے۔’ یہ لوگ، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات کی تلاش میں یہاں آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔
آبادی کے اس بے ہنگم سیلاب کو بھی لاہور سہہ گیا، لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ لاہور کے بے پناہ پھیلے مضافات پہ نظر رکھے سرمایہ کاروں کے منہ کو خون لگ چکا تھا۔
سستی خریدی گئی زمین کروڑوں کے بھاؤ تبھی بکتی ہے جب لوگ بلاوجہ اپنے موجودہ گھر چھوڑ کر نئی آبادیوں کا رخ کریں۔ یہاں آ کے میں خاصی پریشان ہو جاتی ہوں۔ گھر ایک ایسی چیز ہوتا ہے جسے چھوڑنا، تبدیل کرنا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہوتا۔ ایک بار جن گلیوں محلوں میں آپ بس گئے تو بس گئے لیکن لاہور کے مزاج میں یہ تبدیلی کیسے آئی؟
آج لاہور کا ہر شخص جہاں رہ رہا ہے وہ وہاں رہنا نہیں چاہتا۔ کرشن نگر اور اقبال ٹاؤن والے ازمیر ٹاؤن اور پنجاب سوسائٹی میں جانا چاہتے ہیں۔ ازمیر والے بحریہ میں، بحریہ والے ای ایم ای میں اور ای ایم ای والے اصلی تے وڈے ڈیفینس میں۔ ڈیفینس کا یہ حال ہے کہ فیز ون والا فیزتھری میں جانا چاہتا ہے، فیز تھری والا فیز فائیو میں اور فیز فائیو والا بیدیاں روڈ پہ فارم ہاؤس بنانا چاہتا ہے۔
تین مرلے والے کو سات مرلے کی ہوس ہے اور سات مرلے والے کو کنال کی خواہش۔ کنال والا دو کنال کے لیے خوار ہو رہا ہے، دو کنال والا چار کنال کی حسرت پال رہا ہے۔ کسی شخص کو اپنے گھر سے محبت نہیں رہی اور یہ ہی لاہور کے رئیل اسٹیٹ بزنس کی اصل حرکیات ہیں۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ لاہور سے باہر دور تک بھی لاہور ہی آباد ہے اور اس میں کوئی کسی کو نہیں جانتا۔ گھروں کا حال یہ ہے کہ:
گھر بن رہے ہیں، نقل مکانی بھی ساتھ ہے
اس نئے لاہور میں چائنا کی چم چم کرتی ٹائلیں لگی ہیں اور ساری کی ساری سلامت ہیں۔ ان ٹائلوں پہ چاہے معشوق پیر دھر جائیں یہ سالم کی سالم رہتی ہیں اور اورنج میٹرو سے اترنے والوں کو شہر لاہور کے بوہے اور باریاں یاد رکھنے کی نہ چاہ ہے نہ ہی ضرورت!
اس بےچہرہ شہر میں اب عاشق اور معشوق نہیں رہتے بلکہ صرف دو طرح کے لوگ رہتے ہیں، ایک وہ جو مکانات اور پلاٹ بیچنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو یہ مکانات اور پلاٹ خریدنا چاہتے ہیں۔ چاہے ان کو ان مکانات اور پلاٹوں کی ضرورت ہو یا نہ ہو، بیچنے والے بیچیں گے اور خریدنے والے خریدیں گے۔
اس خرید و فروخت کے بیچ لاہور اور لاہوری کہیں کھو گئے!