Cloud Front
Saleem Shahzad

ایم کیو ایم رہنما سلیم شہزاد نے اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کروا دیا

ایم کیو ایم لندن سے لاتعلقی کا اعلان کر چکا ہوں، پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا تو میرا لندن سے تعلق ختم ہوگیا۔ میں محب الوطن لوگوں کے ساتھ ہوں، سلیم شہزاد
ڈاکٹر عاصم کیس میں میرا نام آیا ہے، وہ کلیئر کروانے پاکستان آیا ہوں، عشرت العباد اچھے انسان ہیں ، بیان
سلیم شہزاد کو مختلف مقدمات میں گرفتارکیا گیا ہے، گرفتاری کے وقت سلیم شہزاد کے وکلا کی ٹیم کو بھی ایئرپورٹ پر طلب کرلیا گیا تھا، ایس ایس پی راؤ انوار

کراچی : ایم کیو ایم رہنما سلیم شہزاد نے اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کروا دیا۔ سلیم شہزاد کو پیر کی صبح پاکستان پہنچنے پر کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق پولیس نے ایم کیو ایم رہنما سلیم شہزاد کا ویڈیو بیان ریکارڈ کر لیا۔ اپنے بیان میں سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم لندن سے لاتعلقی کا اعلان کر چکا ہوں۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا تو میرا لندن سے تعلق ختم ہوگیا۔ میں محب الوطن لوگوں کے ساتھ ہوں۔سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کیس میں میرا نام آیا ہے، وہ کلیئر کروانے پاکستان آیا ہوں۔ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اچھے انسان ہیں۔اس سے قبل پیر کی صبح جب سلیم شہزاد دبئی سے کراچی پہنچے تو انہیں ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا۔ سلیم شہزاد کو امیگریشن کاؤنٹر پر پوچھ گچھ کے بعد حراست میں لیا گیا اور ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیا۔

سلیم شہزاد کو گرفتار کرنے والے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا ہے کہ سلیم شہزاد کو مختلف مقدمات میں گرفتارکیا گیا ہے۔ گرفتاری کے وقت سلیم شہزاد کے وکلا کی ٹیم کو بھی ایئرپورٹ پر طلب کرلیا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی ملیرراؤ انوار سلیم شہزاد کو گرفتار کرکے اپنے ہمراہ لے گئے ہیں ، انہیں بکتربند گاڑی کے ذریعے سخت سیکیورٹی میں کراچی ایئرپورٹ سے لے جایا گیا۔دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر کا کہنا ہے کہ سلیم شہزاد کے خلاف مختلف تھانوں میں 20 سے زائد مقدمات ہیں۔

ان کے خلاف ملک دشمنی، قتل، جلاؤ گھیراؤ اور فائرنگ کے مقدمات ہیں جو گلشن اقبال، اورنگی ٹاؤن، لانڈھی، بلدیہ اور سرجانی تھانوں میں درج ہیں۔واضح رہے کہ سلیم شہزاد سنہ 1992 میں ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والے آپریشن کے بعد خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرگئے تھے۔ گذشتہ سال 22 اگست کے واقعے کے بعد سلیم شزاد نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے بانی ایم کیو ایم سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ایم کیو ایم رہنما سلیم شہزاد دہشت گردوں کا علاج کروانے کے مقدمے میں اشتہاری تھے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سلیم شہزاد کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے تھے۔ سلیم شہزاد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل تھا۔