Cloud Front
alastar cook

ریکارڈ 59 میچوں میں قیادت کے بعد انگلش کپتان کک مستعفی

اگست 2012 میں انگلش ٹیم کی کمان سنبھالی اور 2013 اور 2015 میں ہوم گراؤنڈ پر ایشز سیریز جیتنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور جنوبی افریقہ میں ہونے والی سیریز میں بھی فتوحات حاصل کیں
کپتان بننا اور پانچ سال تک ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنا بہت بڑا اعزاز ہے۔ قیادت کا منصب چھوڑنا بہت مشکل فیصلہ تھا لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہ میرے لیے اور اس وقت ٹیم کیلئے بھی صحیح فیصلہ ہے، کک

لندن: انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ایلسٹر کک نے 59 میچوں میں قیادت کے بعد ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔11ہزار 57 رنز بنا کر انگلینڈ کے سب سے کامیاب بلے باز ایلسٹر کک نے اگست 2012 میں انگلش ٹیم کی کمان سنبھالی اور 2013 اور 2015 میں ہوم گراؤنڈ پر ایشز سیریز جیتنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور جنوبی افریقہ میں ہونے والی سیریز میں بھی فتوحات حاصل کیں۔32 سالہ کْک نے اپنے انگلینڈ کا کپتان بننا اور پانچ سال تک ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنا بہت بڑا اعزاز ہے۔ قیادت کا منصب چھوڑنا بہت مشکل فیصلہ تھا لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہ میرے لیے اور اس وقت ٹیم کیلئے بھی صحیح فیصلہ ہے۔یاد رہے کہ ایلسٹر 59 میچوں میں قیادت کے ساتھ انگلینڈ کی سب سے زیادہ میچوں میں قیادت کرے والے کپتان ہیں

جہاں اس سے قبل یہ اعزاز مائیکل وان کے پاس تھا جنہوں نے 53 میچوں میں قیادت کے فرائض انجام دیے تھے۔کک کی قیادت کے حوالے سے بازگشت اس شروع ہوئی تھی جب انہوں نے دورہ ہندوستان پر پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل جو روٹ کو قیادت سونپنے کا شارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کیلئے اپنے اہلخانہ سے زیادہ عرصے تک دور رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اس بیان کے بعد ماہرین نے ان کی جلد ریتائرمنٹ کے حوالے سے باتیں شروع کردیں تھیں جسے انگلینڈ کرکٹ کے ڈائریکٹر نے انہیں قیادت سے ہٹائے جانے کی باتوں کو یکسر مسترد کردیا تھا۔سابق کپتان نے کہا کہ انگلینڈ کیلئے کھیلنا بڑا اعزاز ہے اور مجھے امید ہے کہ میں انگلینڈ کیلئے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے بہترین کردار ادا کرتا رہوں گا۔انگلینڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ اینڈریو اسٹراس نے کک کے جانشین کے نام کا فی الحال اعلان نہ کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کی قیادت کیلئے کئی کھلاڑی تیار ہیں لیکن ہم مکمل عمل کے بعد دورہ ویسٹ انڈیز سے قبل کپتان کے نام کا اعلان کریں گے۔انگلینڈ کی قیادت کیلئے باصلاحیت بلے باز جو روٹ مضبوط ترین امیدوار ہیں جبکہ اس فہرست میں دوسرا نام آل راؤنڈر بین اسٹوکس کا ہے۔