Cloud Front
nawaz sharif

کابینہ اجلاس:غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان مہاجرین کو فوری واپس بھیجنے کی منظوری

وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس
انتخابی اصلاحاتی پیکج منظور،احتسابی کمیشن کا معاملہ موخر
غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان مہاجرین کو فوری واپس بھیجنے کی بھی منظوری دیدی گئی
ایران ، فرانس سمیت متعدد ملکوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کی یادداشتوں پر غور
عوام کی معیاری زندگی کو بہتر بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کررہے ہیں، نواز شریف کا اجلاس سے خطاب
ہر دس سال بعد مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوں گی،الیکشن کمیشن شفافیت کیلئے الیکشن سے 6ماہ قبل پلان تیار کریگا ، حساس پولنگ سٹیشنز پر کیمرے نصب کیے جائیں گے ،آئندہ ماہ پارلیمنٹ میں بل کی شکل میں سفارشات پیش کریں گے ،وفاقی وزیر زاہد حامد کی اجلاس کے بعد بریفنگ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحاتی پیکیج منظور کرلیا، جسے قانونی شکل دینے کیلئے ایک آئینی بل کی صورت میں جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا ،کابینہ نے کمیٹی برائے توانائی، ای سی سی، کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلوں اور اسٹیٹ بینک سمیت ایرانی بینک کے مابین ادائیگیوں کے معاہدے کی بھی منظوری دی جبکہ احتساب کمیشن کے معاملے کو مؤخر کردیا گیا،کابینہ نے ایران ، فرانس سمیت متعدد ملکوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کی یادداشتوں پر غور کیا گیاجبکہ اجلاس میں ورکنگ بانڈری پر فائرنگ سے متاثر ہونے والوں اورشہداء کے خاندان کیلئے امداد دینے کا بھی اعلان کیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر وفاقی وزرانے شرکت کی ۔ اجلاس میں 33نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا ۔

اجلاس کے دوران نارووال اور سیالکوٹ میں بھارتی فائرنگ کے متاثرین کے لیے پنجاب حکومت کی امداد ناکافی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے بھی امداد کی منظوری دی گئی جس کے تحت ورکنگ بانڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کے خاندان کو5 لاکھ جب کہ شدید زخمیوں کو ڈیڑھ لاکھ روپے فی کس دیئے جائیں گے۔اجلاس میں کابینہ نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے پالیسی کے علاوہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تجاویز کی بھی منظوری دے دی۔ جس میں عام انتخابات میں خواتین کے5 فیصد کوٹہ کی منظوری کی تجویز بھی شامل تھی۔ اس سلسلے میں قانون سازی کے بعد تمام سیاسی جماعتیں 5 فیصد نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ دینے کی پابند ہوں گی ،وفاقی کابینہ نے معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی منظوری بھی دی جبکہ عام انتخابات میں ہرایک کلومیٹر بعد پولنگ اسٹیشن قائم کیا جائے گا۔

یہ پیکیج بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائیگا ، انتخابی اصلاحاتی پیکیج تمام سیاسی و پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل انتخابی اصلاحاتی کمیٹی نے بنایا ہے جس کا مقصد ملک میں انتخابات کو شفاف و شفاف اور منصفانہ کرانے کے لئے رائج الوقت انتخابی قوانین میں اصلاحات لانا تھا ۔اجلاس میں ملک بھر کے اندر 250، 500 اور 1000بستروں پر مشتمل ہسپتالوں کی تعمیر کی منظوری بھی دی گئی ۔ وفاقی کابینہ نے غیرملکی کمرشل قرضوں، ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے لئے 38 کروڑ روپے سمیت ٹی ڈی اے پی اور ای پی بی بنگلا دیش کے مابین مفاہمتی یادداشت کی منظوری دینے پر بھی غور کیا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں روس کے فوجیوں کو پاکستان میں تربیت کے معاہدے پر بات چیت سمیت پاکستان اور چین کے آڈٹ اداروں میں تعاون کی یادداشت کے علاوہ ایران، بیلارس، آذربائیجان، سینی گال اور کرغزستان سمیت فرانس کے ساتھ باہمی تعاون کے سمجھوتوں کو بھی منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کمیٹی برائے توانائی، ای سی سی، کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلوں اور اسٹیٹ بینک سمیت ایرانی بینک کے مابین ادائیگیوں کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے کی اہم شقوں کی منظوری اور غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو فوری طورپر واپس بھیجنے کی بھی منظوری دی ۔

وفاقی کابینہ نے قرار دیا کہ تمام سیاسی جماعتیں خواتین کوالیکشن امیدواربنانے کی پابندہوں گی۔قبل ازیں اجلاس میں کابینہ اراکین کی طرف سے سفارشات کی گئیں کہ امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے کابینہ اس معاملے پر بھی غور کرے ، بارڈر ریگولیٹ کر نے سے مہاجرین کی آمد و رفت کے نظام میں بہتری آئی ہے اور اب کابینہ افغان مہاجرین کے لئے قانون بنانے کے معاملے پر بھی مشاورت کرے ،ویزوں کی درجہ بندی کے لئے مختلف گروپوں کو سہولتیں دینے پر بھی غور کیا جائے ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں میں ہسپتالوں اور صحت پر توجہ نہیں دی گئی ، ہسپتالوں میں معیاری سہولتیں نہ ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا رہا اور عوام معیاری ہسپتالوں کو ترس رہے ہیں ،ہم صحت اور تعلیم کے شعبے میں اقدامات اٹھا رہے ہیں اورعوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہم کا عزم کر رکھا ہے ۔مستحق افراد کو صحت کی معیاری سہولت فراہم کی جائیں گی،عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کررہی ہے ۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیر زاہد حامد نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صرف پاکستان میں ہی نگران حکومت کا تصور رہ گیا ہے ۔ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے اندراج سے متعلق بات ہوئی ،

انتخابی نتائج پولنگ سٹیشن پر ہی مرتب کیے جائیں گے اور ہر دس سال بعد مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی ۔الیکشن کمیشن شفافیت کیلئے الیکشن سے 6ماہ قبل پلان تیار کریگا اور حساس پولنگ سٹیشنز پر کیمرے نصب کیے جائیں گے ۔ الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر مستحکم بنایا جائے گا جبکہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلئے مخصوص فارمولا وضع کر دیا ہے۔ شفاف نتائج ریٹرنگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کو بھیجے جائیں گے ۔ 10ہزار سے کم ووٹنگ کے فرق پر موقع پر ہی ری کانٹنگ کا مطالبہ کیا جا سکے گا ۔ ہر حلقے میں خواتین کے 10فیصد ووٹ کاسٹ کرنا ضروری ہونگے ۔ معذور افراد کو پہلی بار بیلٹ پیپرسے ووٹ ڈالنے کا اختیار دیا ہے ۔ انتخابی عمل میں حصہ لینے والے سٹاف سے پہلے حلف لیا جائے گا ۔اگلے ماہ پارلیمنٹ میں بل کی شکل میں سفارشات پیش کریں گے ۔