Cloud Front
debat

پاکستان پر بیرون قرضوں کا حجم 74 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

بڑے قرضوں کی ادائیگی کا وقت آپہنچا، پاکستان کو آئندہ تین سال میں آئی ایم ایف، پیرس کلب اور بانڈز کی مدت معیاد مکمل ہونے پر کئی قرضے چکانے ہونگے

اسلام آباد: بڑے قرضوں کی ادائیگی کا وقت آپہنچا۔ پاکستان کو آئندہ تین سال میں آئی ایم ایف، پیرس کلب اور بانڈز کی مدت معیاد مکمل ہونے پر کئی قرضے چکانے ہونگے۔معیشت کا پہیہ چلانے کی خاطر گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر آنے والی حکومت نئے قرضے کا بوجھ عوام پر چھوڑ جاتی ہیں جس کے باعث پاکستان پر بیرون قرضوں کا حجم 74 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔قرض جس سے بھی لیا جائے آخر قرض تو قرض ہی ہوتا ہے اور واپس بھی کرنا ہی ہوتا ہے۔ سال 2017 سے 2020 کے دوران پاکستانی بانڈز کی مدت معیاد مکمل ہونے پر حکومت 2 ارب 75 کروڑ ڈالر ادا کرنے کی پاپند ہو گی۔دوسری جانب آئندہ دو سال کے دوران ہی پیرس کلب اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگیاں بھی شروع ہو جائیں گی۔ واضح رہے کہ پیرس کلب کے 11 ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کو 2001 میں ری شیڈیول کیا گیا تھا۔