Cloud Front

انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے سے کھیل کی صنعت تباہ، 650 فیکٹریاں بند

سیالکوٹ میں لاکھوں کاریگر اور صنعت کار پریشان، حکومت کے 1.6 ملین کا ڈیوٹی ڈرا بیک ادا نہ کرنے سے بھی صنعت کو بڑا دھچکا
فٹبال سے عالمی سطح پر نام بنانیوالی صنعت میں کرکٹ، ہاکی اور دیگر کھیلوں کی مصنوعات سے انڈسٹریز کی تعداد ہزار سے بڑھ گئی تھی
2008ء4 میں چھوٹے صنعتکار کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو گئے۔ بھارت، چین اور بنگلا دیش آسان قرضے دیکر عالمی مارکیٹ میں چھا گئے

سیالکوٹ: پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہونے اور بجلی گیس بحران کی وجہ سے 650 فیکٹریاں دیوالیہ ہو کر بند ہو گئی ہیں۔ تین سال سے سپورٹس گڈز میں اضافہ نہ ہونے سے لاکھوں کاریگر اور صنعت کار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ حکومت نے 1.6 ملین کی ڈیوٹی ڈرا بیک ادا نہ کر کے صنعت کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قیام پاکستان سے قبل سیالکوٹ کے ہنر مندوں کے ہاتھوں سے تیار ہونیوالا فٹ بال عالمی سطح پر اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا جس کی بناء4 پر سیالکوٹ کی سپورٹس انڈسٹری کو فروغ حاصل ہوا اور اس میں کرکٹ، سپورٹس گلوز، مارشل آرٹس، باکسنگ، سپورٹس یونیفارم، بیڈمنٹن اور ہاکی وغیرہ کی مصنوعات شامل ہو گئیں اور سپورٹس انڈسٹریز کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی۔ 2008ء4 میں بجلی اور گیس کے بحران کیساتھ ساتھ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کاخاتمہ ہوا جس کی بناء4 پر پاکستان کو سالانہ 70 ملین ڈالر زرمبادلہ فراہم کرنیوالی 650 کے قریب سپورٹس انڈسٹریز کے مالکان دیوالیہ ہو گئے اور انہوں نے اپنی فیکٹریاں بند کر دیں،

جبکہ 350 کے قریب فیکٹری مالکان حکومتی عدم توجہ کے باوجود یورپ، امریکا، برطانیہ، روس اور چائنا میں اپنی مصنوعات کو مارکیٹ میں فروخت کرنے لگے جس کی بناء4 پر 2013ء4 میں سیالکوٹ کی کل ایکسپورٹ 1.6 بلین جبکہ اس میں سپورٹس گڈز 70 ملین ڈالر تک لے جانے میں کامیاب رہے تاہم بجلی اور گیس کے بحران کی وجہ سے چھوٹے صنعت کار ہیوی مشینری اور جنریٹر خرید نہ سکنے پر اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے سپورٹس انڈسٹری کو ملنے والا 1.6 ملین روپے کا ربیٹ فنڈز بھی روک لیا گیا جس سے سپورٹس انڈسٹری کو بڑھا جھٹکا لگا۔

حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے جہاں پر فٹ بال، کرکٹ اور ہاکی کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا تو وہیں لاکھوں ہنر مند بھی بیروزگار ہو گئے جبکہ اس دوران انٹرنیشنل سپورٹس مارکیٹ پر بھارت، چائنا اور بنگلا دیش نے اپنے شہریوں کو آسان شرائط پر قرضہ فراہم کر کے سستے داموں بجلی اور گیس فراہم کر کے سپورٹس انڈسٹری کو فروغ دیا اور عالمی مارکیٹ میں چھا گئے۔ دوسری جانب پاکستانی حکمرانوں نے سپورٹس انڈسٹری سے وابستہ صنعت کاروں کو اندرون اور بیرون ملک نتہا چھوڑ دیا اور کسی قسم کی سہولت فراہم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کے پاکستان میں فروغ کیلئے اقداما ت نہ کیے جس سے سپورٹس انڈسٹری روز بروز زوال پذیر ہوتی جا رہی ہے اور صنعت کار دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔