Cloud Front
PSL logo

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کی تیاریاں مکمل، افتتاحی تقریب کل ہو گی

پاکستانی گلوکاروں کے علاوہ جمیکن سنگر شیگی بھی اپنی پرفارمنس کے جلوے بکھیرنے کو بے تاب
افتتاحی میچ میں اسلا م آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ کھیلا جائے گا
پاکستان میں کرکٹ کے مقابلوں کا مستقبل کیا ہے، اس بات کا فیصلہ پانچ مارچ کو لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد سے ہوجائے گا
فائنل پاکستان کی کرکٹ کو نئے دور میں لے جاکر عالمی منظر نامے میں پاکستان کے کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد کردے گا

لاہور : پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔ رنگارنگ افتتاحی تقریب کل دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہو گی۔ تقریب کو چار چاند لگانے کے لئے نامور گلوکاروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔پی ایس ایل کا آفیشل گانا گانے والے علی ظفر اپنی آواز کا جادو جگانے کو تیار ہیں۔ دے مارساڑے چار گانے کے خالق اور سماجی کارکن شہراد رائے بھی ان ایکشن نظر آئیں گے۔ پاکستانی گلوکاروں کے علاوہ جمیکن سنگر شیگی بھی اپنی پرفارمنس کے جلوے بکھیرنے کو بے تاب ہیں۔افتتاحی تقریب میں سپورٹس اور شوبز کے علاوہ شعبوں کے ستارے بھی جگمگایءں گے، افتتاحی میچ میں اسلا م آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ کھیلا جائے گا ۔پاکستان میں ٹی ٹوینٹی کرکٹ کی ابتدا ستر کی دہائی سے ہوگئی تھی۔ رمضان کپ سمیت دیگر چھوٹے ٹورنامنٹ بیس اوورزپر مشتمل تھے۔ کراچی میں ہونے والے ٹی ٹوینٹی مقابلوں میں ہزاروں کی تعداد میں تماشائی گراؤنڈ کا رخ کرتے اور اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کاحوصلہ بڑھاتے

ان ٹورنامنٹس نے پاکستان کرکٹ کو کئی بڑے نام دئیے جنھوں نے آگے چل کر ملک کا نام روشن کیا۔ کراچی میں رمضان کے دوران اصغرعلی شاہ گراؤنڈ میں بھی کرکٹ ٹورنامنٹ تقریبا بیس برس سے منعقد ہورہا ہے جس میں ملک کے نامی گرامی کھلاڑی بھی شرکت کرتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹوینٹی کرکٹ کا آغاز دوہزار پانچ سے ہوا۔ اس طرزکی کرکٹ کا پہلا ورلڈ کپ دوہزارسات میں کھیلا گیا۔پاکستان نے دوہزارنو کیورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی اور عالمی سطح پر اس طرزکی کرکٹ میں خود کو منوایا۔

اس مقابلے میں لیگ کی طرز کا فارمیٹ لانے کا سہرا اگرچہ بھارت کے سر جاتا ہے مگر پاکستان نے بھی اپنی لیگ کے ذریعے دھاک بٹھالی ہے۔پاکستان کے سابق چئیرمین ذکا اشرف کے دورمیں پاکستان میں سپرلیگ کروانے کا منصوبہ پہلی بار سامنے آیا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ کمیٹی قائم کی گئی تھی مگر ملک کے حالات کی وجہ سے بات فائلوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ پھر دوہزار پندرہ کے شروع میں دوبارہ اس منصوبے نے سراٹھااور پھر پاکستان نے پہلی بار دوہزار سولہ فروری میں یہ لیگ کامیابی سے متحدہ عرب امارات کے گراؤنڈز میں کروائی۔ پاکستان کی سیکورٹی کی صورتحال نے اس وقت اس بات کی اجازت نہیں دی تھی کہ یہ مقابلے پاک سرزمین پر منعقدہوسکیں۔اس وقت پانچ ٹیموں نے ان مقابلوں میں شرکت کی

ان ٹیموں میں بین الاقوامی کھلاڑی بھی شامل تھے۔ نجم سیٹھی نے کامیابی کے ساتھ اس لیگ کے پہلے ایڈیشن کو لانچ کیا اور پاکستان کو لیگ کے کامیاب انعقاد پر خوب داد ملی۔پہلی لیگ کے بعد منتظمین کی ہمت بڑھی اور لیگ کو اسٹاک ایکسچینج میں باقاعدہ کمپنی کے طورپرمتعارف بھی کروایا گیا۔ منتظمین کی جانب سے یہ طے ہوا کہ پہلے تین سال تک لیگ کی ٹیموں کی تعداد پانچ ہی رہے گی اور اس کے بعد یہ تعداد بڑھائے جائے گی۔اس لیگ میں ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو بھی شرکت کا موقع دیا گیا۔

اس بار لیگ سے پہلے، ٹیموں نے مختلف شہروں میں اوپن کیمپ بھی لگائے اور گراس روٹ لیول سے ٹیلنٹ پر کام کیا۔فرنچائززکی جانب سے اپنی ٹیموں کو ملک سے باہربھی بھیجاگیا تاکہ انھیں بھرپور پریکٹس کا موقع مل سکے۔ پاکستان کرکٹ کے بڑے نام لیگ کے ساتھ منسلک ہوئے جن کی بدولت پاکستان کے ٹیلنٹ کوآگے آنے میں بھرپور مددملے گی۔ اس لیگ کو دبئی سمیت متحدہ عرب امارات کے دیگر شہروں میں کروانے کی اہم وجہ پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال ہے۔ تاہم اس بار پی ایس ایل انتظامیہ نے لیگ کا فائنل لاہور میں کروانے کااعلان کیا ہواہے۔

اس سلسلے میں غیرملکی کھلاڑیوں کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ انھیں فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔پاکستان میں سپر لیگ کا فائنل کامیابی سے منعقد ہوجانے کے بعد ملک میں بلاشبہ غیرملکی ٹیموں کی آمد کے لیے راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں بہت کام باقی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل انتظامیہ کے ساتھ بھرپورکوشش کی ہے کہ غیرملکی کھلاڑیوں کو پاکستان آنے کے لیے قائل کیا جاسکے۔پاکستان کے آئندہ ایک ماہ کے حالات اس بات کا تعین کریں گے کہ فائنل لاہور میں منعقد ہوسکتا ہے یا نہیں۔ البتہ پی ایس ایل انتظامیہ نے دبئی کو بیک اپ پلان کے طورپربھی رکھا ہواہے۔

پاکستان سپر لیگ سے نوجوان قومی کرکٹرزکوغیرملکی کھلاڑیوں سے سیکھنے کا بھرپورموقع بھی ملے گا۔بڑے ناموں کے ساتھ ڈریسنگ روم شئیر کرنا اور میچ کی صورتحال کے مطابق صلح مشورہ نوجوان کھلاڑیوں کے کرکٹ سے متعلق ویڑن کو کافی آگے لے جائے گا۔ سپرلیگ کے حوالے سے متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستانی شہریوں میں خوب دلچسپی پائی جاتی ہے۔ اچھا موسم اور غیرملکی کھلاڑیوں کی آمد نے سپر لیگ کو چار چاند لگادئیے ہیں۔پاکستان میں کرکٹ کے مقابلوں کا مستقبل کیا ہے، اس بات کا فیصلہ پانچ مارچ کو لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد سے ہوجائے گا اور امید ہے کہ یہ فائنل پاکستان کی کرکٹ کو نئے دور میں لے جاکر عالمی منظر نامے میں پاکستان کے کھیلوں کے میدان دوبارہ آباد کردے گا۔