Cloud Front

امریکی عدالت میں صدارتی حکم نامے پر ٹرمپ انتظامیہ کو سخت سوالات کا سامنا

عدالت نے کہا کہ صدارتی حکم نامے کی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی لیکن عوامی احتجاج پر بھی اس کے خلاف فیصلہ ممکن نہیں

واشنگٹن: سات مسلم ممالک پر پابندی کے صدارتی حکم نامے کی معطلی کے امریکی عدالتی فیصلے کے خلاف امریکی محکمہ انصاف کی نظر ثانی اپیل کی سماعت اپیلیٹ کورٹ میں ہوئی جس کے دوران ججز نے فریقین کے وکلاء4 سے ایک گھنٹے تک سخت سوالات کئے۔امریکی شہر سیاٹل میں نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں گزشتہ روز تین ججز پر مشتمل بنچ کے روبرو ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس سماعت میں جج صاحبان نے امریکی ریاست واشنگٹن اور ٹرمپ انتظامیہ کے وکلاء4 سے ان کے مؤقف کی بابت سخت سوالات کئے۔انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت ہیں کہ جن سات ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کی پابندی لگائی گئی ہے،

ماضی میں بھی ان ممالک سے امریکہ آنے والوں نے یہاں دہشت گردی کی وارداتیں کی ہیں؟ اس کے جواب میں صدارتی وکیل کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد سے ان ملکوں کے بہت سے شہریوں کو امریکہ میں دہشت گردی کے جرم میں گرفتار کیا جاچکا ہے لیکن جب عدالت نے ان سے مزید تفصیل دریافت کی تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کردیا۔دوسری طرف عدالت نے جب واشنگٹن اسٹیٹ کے وکیل سے پوچھا کہ وہ کن ثبوتوں کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ صدارتی حکم نامے کو مسلمانوں کے خلاف قرار دیتے ہیں تو انہوں نے اپنے تفصیلی ثبوتوں کیلیے عدالت سے مزید وقت مانگا۔وکلاء4 کے دلائل پر تبصرہ کرتے ہوئے جج صاحبان نے کہا کہ بادی النظر میں سات مسلم ملکوں سے آنے والوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی لیکن وہ محض عوامی احتجاج کی بنیاد پر بھی اس پابندی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے۔قبل ازیں اپیلیٹ کورٹ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ اس مقدمے کا فیصلہ ایک سے دو دن میں تو ممکن نہیں لیکن عدالت اسے جلد از جلد نمٹانا چاہتی ہے چاہے کچھ بھی فیصلہ کرے۔