Cloud Front

بھا رت نے مغل بادشا ہوں کی تا ریخ مسخ کر نے کا منصو بہ بنا لیا

راجستھان کی حکومت نے یونیورسٹی سطح میں تاریخ کی کتابوں کو تبدیلی کر کے مغل بادشاہ اکبر کو شکست اور رانا پرتاپ کو فتح کابا ب شا مل کر نے کی تیا ریا ں شرو ع کر دیں
بر صغیر کی تاریخ سے متعلق اب تک تمام مستند تاریخی کتابوں میں یہی درج ہے کہ اس جنگ میں اکبر کی فوج نے رانا پرتاپ کو شکست دی تھی

نئی دہلی: بھارتی ریاست راجستھان میں یونیورسٹی سطح کی تاریخ کی کتابوں کو تبدیلی کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے جس میں یہ پڑھایا جائے گا کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں مغل بادشاہ اکبر کو شکست اور رانا پرتاپ کی فتح ہوئی تھی۔بر صغیر کی تاریخ سے متعلق اب تک تمام مستند تاریخی کتابوں میں یہی درج ہے کہ اس جنگ میں اکبر کی فوج نے رانا پرتاپ کو شکست دی تھی۔لیکن انڈیا کے معروف انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق راجستھان میں یونیورسٹی سطح پر پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتابوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔اخبار کے مطابق ریاست کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کی حکومت میں شامل تین وزرا نے اس تجویز کی حمایت کی ہے جس کے تحت تاریخ کے حقائق بدلنے کا منصوبہ ہے۔اس تجویز کے مطابق اب طالب علموں کو یہ پڑھایا جائے گا کہ ہلدی گھاٹی کی لڑائی میں پرتاپ نے مان سنگھ کی قیادت میں لڑنے والی اکبر کی فوج کو شکست دی تھی۔تاریخ کی کتابوں کے مطابق 1576 میں ہلدی گھاٹی میں ہونے والی جنگ کے بعد راجپوت راجہ مہارانا پرتاپ پہاڑوں کی طرف چلے گئے تھے۔

بعد میں اکبر نے فوج کی خود کمان سنبھالی اور اس خطے کے بیشتر علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا تھا۔انڈین ایکسپریس نے ریاستی وزیر کالی چرن سراف کا ایک اقتباس نقل کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اکبر تو باہر سے آنے والا ایک حملہ آور تھا اور حقیقت میں یہ جنگ رانا پرتاپ نے جیتی تھی۔کالی چرن کا کہنا ہے کہ نسل در نسل مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی رہی ہے اور اگر اب اس کو درست کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جائے کہ ‘اصل میں اس جنگ کے فاتح رانا پرتاپ تھے تو اس میں برائی کیا ہے؟’لیکن نامور مورخ تنوجا کوٹھیال کا کہنا ہے کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ کا یہ نتیجہ نکالنا نا صرف تاریخ کی توہین ہے بلکہ یہ پورے تعلیمی عمل کی توہین ہے۔انھوں نے اخبار کو بتایا: ‘اکبر نے رانا پرتاپ کو شکست دی یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کے احساسات اور خیالات اس بارے میں کچھ مختلف ہیں۔

‘انھوں نے کہا کہ لیکن اس کے باوجود لوگوں کے احساسات کا خیال رکھنے کے لیے تاریخی حقائق تو نہیں بدلے جا سکتے۔ ‘یہ تاریخ اور تعلیم دونوں ہی کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوں گے۔’چند دن پہلے ہی کی بات ہے راجستھان میں بعض سخت گیر ہندو انتہا پسندوں نے فلم ‘پداماوتی کے سیٹ پر حملہ کیا تھا اور مار پیٹ کی تھی۔ان کا الزام تھا کہ اس فلم میں یہ دکھانے کی کوشش کی جار رہی ہے کہ رانی پدماوتی کو دلی کے سلطان علاء4 الدین خلجی سے محبت تھی جبکہ یہ راجپوتوں کے خیال کے برعکس ہے۔