Cloud Front

پاکستان اور سری لنکا کا سارک تعطل ختم کرنے پر زور

سارک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کا قابل عمل پلیٹ فارم ہے، ما ہر ین

کولمبو: سری لنکا اور پاکستان نے اسلام آباد و نئی دہلی کے درمیان کشیدگی کو ایک طرف رکھتے ہوئے خطے کے مسائل حل کرنے اور کارپوریٹ و صنعتی تعلقات کی بحالی کے لیے علاقائی تعاون تنظیم برائے جنوبی ایشیا (سارک) کے تعطل کو ختم کرکے فورم کے دوبارہ کام پر زور دیا ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز ان سری لنکا (آئی این ایس ایس ایل) اور پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے منعقدہ سیمینار میں ماہرین نے علاقے کے مسائل حل کرنے پر زور دیا جو بنیادی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہیں،

جن کی وجہ سے 19 ویں سارک سربراہی کانفرنس معطل ہوئی، جسے گزشتہ برس اسلام آباد میں منعقد ہونا تھا۔بحث میں حصہ لینے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ ’سارک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کا قابل عمل پلیٹ فارم ہے‘۔پاکستانی ہائی کمشنر ریٹائرڈ میجر جنرل سید شکیل حسین کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے سر پر منڈلاتے منشیات کے پھیلاؤ، پانی اور خوراک کی سکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے متنازع اور مشکل مسائل کو بہادری کے ساتھ حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں‘۔انہوں نے علاقے کی دونوں بڑی معاشی طاقتوں پر اپنے دو طرفہ مسائل حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’علاقے کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ سارک کے ذریعے سری نگر میں امن قائم کیا جائے‘۔سری لنکا کے سیکریٹری دفاع اور آئی این ایس ایس ایل کے چیئرمین کروناسینا ہیٹیا راچشی کا کہنا تھا کہ سارک غربت کے خاتمے کے ہدف تک پہنچنے کے لیے طویل المدتی راستہ ہے اور اسی کے ذریعے ہی خطے کی پائیدار ترقی کے ترجیحی اہداف حاصل اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔فورم کے مقررین کے مطابق خطے کی اقوام کے درمیان تنازعات کے باوجود جنوبی ایشیا میں تجارت بڑھ رہی ہے، دفاعی تجزیہ نگار اور ریٹائرڈ فوجی افسر اکرام سہگل کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیائی خطہ ایک مکمل معاشی طاقت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور ثقافتی تعلقات سارک ممالک کو قریب لانے سمیت فورم کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی کے گورنمنٹ پالیسی اینڈ پبلک ایڈمنسٹریشن شعبے کی سربراہ ڈاکٹر سید رفعت شاہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو پانی کی جنگ کی طرف نہیں جانا چاہئیے۔ان کے مطابق ’ تمام دیگر وسائل کی طرح پانی کا مسئلہ بھی ایک ایسا معاملہ ہے جو نہایت حساس ہے‘ اور اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ آپشن نہیں ہے تو مذاکرات ہی متبادل راستہ رہ گئے ہیں۔ڈاکٹر رفعت شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے مشاورت کیے بغیر بھارت نے کشمیر کے ارد گرد ڈیموں کی تعمیر کا منصوبہ جاری رکھا ہے۔فورم میں دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کے بجائے باہمی مفادات کے لیے روابط پر زور دیا گیا۔فورم کے مقررین میں سارک کے سابق سیکریٹری جنرل نہال روڈریگو اورآئی این ایس ایس ایل کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اسانگا ابیا گوناسیکیرا بھی شامل تھے