Cloud Front
Siraj Ul Haq

پانامہ کیس کے فیصلہ تک وزیراعظم کو اختیارات کے استعمال سے روکا جائے، سراج الحق

وزیراعظم کا احتساب ہو گیا تو ملک کی عزت میں اضافہ ہو جائے گا،عدالت کے پاس پانامہ سے متعلق بہت سے ثبوت موجود ہیں ، سب سے بڑا ثبوت تو وزیراعظم کی تقریر ہے، حکومت کے پاس سچ چھپانے کیلئے کم وقت ہے،امیر جماعت اسلامی کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی حقیقی احتساب چاہتی ہے، پانامہ کیس کا فیصلہ ہونے تک وزیراعظم کو اختیارات کے استعمال سے روکا جائے، وزیراعظم کا احتساب ہو گیا تو ملک کی عزت میں اضافہ ہو جائے گا،عدالت کے پاس پانامہ سے متعلق بہت سے ثبوت موجود ہیں اور سب سے بڑا ثبوت تو وزیراعظم کی تقریر ہے۔ حکومت کے پاس سچ چھپانے کیلئے کم وقت ہے۔تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک میں کرپشن کے باعث کروڑوں نوجوان بے روزگار ہیں اور اس کے باعث عوام کو صاف پانی بھی میسر نہیں ہے حالانکہ پاکستان میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، مگر کرپٹ اشرافیہ نے قومی کو بری طرح لوٹا ہے ۔ کرپٹ اشرافیہ ایک دوسرے کی کرپشن چھانے کیلئے ایک دوسرے کو بچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج موسم سہانا ہے اور سپریم کورٹ کے ریمارکس اچھے تھے، سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر احتساب ہوا تو صرف ایک شخص سراج الحق بچے گا ۔ سراج الحق نے کہا کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ثبوت موجود ہیں اور سب سے بڑا ثبوت وزیراعظم کی تقریر ہی ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بچوں کا نام پانامہ میں آیا لیکن بعد میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں سیاسی بیان دیا۔ وزیراعظم آرٹیکل 62 اور63 کے تحت عہدے پر نہیں رہ سکتے، پانامہ کیس کا فیصلہ ہونے تک وزیراعظم کو اختیارات کے استعمال سے روکا جائے کیونکہ سچ تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ کرسی پر بیٹھا انسان اختیارات استعمال نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ پانامہ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اداروں کو فعال کرنے کی ضرورت تھی لیکن ادارے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں اس لئے ٹس سے مس نو ہوئے اور اب ساری ذمہ داری عدالت کی ہے ، امید ہے کہ عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ سنائے گی کیونکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہم سچ کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس میں کوئی بات نہ ہوتی تو وزیراعظم کو تین بار خطاب نہ کرنا پڑتا ، وزیراعظم کا احتساب ہو جائے تو ملک کی عزت میں اضافہ ہو گا ۔