Cloud Front
Corruption

افسران و ٹھیکیداروں کا گٹھ جوڑ ، این ایچ اے میں تما م بڑے منصوبے تاخیر کا شکار!

ادار ے میں کرپشن، افسران و ٹھیکیداروں کا گٹھ جوڑ ، این ایچ اے میں تما م بڑے منصوبے تاخیر کا شکار
منصوبوں کی تاخیر سے قومی خزانہ کو 52ارب روپے کا جھٹکا ، 52ارب سے زائد رقم افسران اور ٹھیکیداروں کی جیبوں میں چلے گئے ، 6منصوبوں کی لاگت 81ارب سے بڑھ کر 132ارب ہو گئی

اسلام آباد : نیشنل ہائی ویز میں تمام بڑے منصوبے تاخیر کا شکار ہو گئے ، تاخیر کی بڑی وجہ ادار ے میں کرپشن اور افسران و ٹھیکیداروں کا گٹھ جوڑ ہے۔ منصوبوں کی تاخیر سے قومی خزانہ پر اضافی طورپر 52ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نے 6بڑے منصوبے81ارب روپے کی لاگت سے شروع کئے تھے جن کی لاگت اب بڑھ کر 132ارب روپے سے بھی زائد ہو گئے ہیں۔ 52ارب روپے زیادہ کرپشن کی وجہ سے افسران اور ٹھیکیداروں کی جیبوں میں چلے گئے ہیں۔ تکمیل میں تاخیر سے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ کر دیا جاتا ہے بعض منصوبوں کی لاگت 200فیصد 150فیصد اور300فیصد تک بھی بڑھا دی جاتی ہے۔ قانون کے مطابق بر وقت منصوبہ نہ مکمل ہونے سے سالانہ لاگت صرف15فیصد بڑھائی جا سکتی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق لیاری ایکسپریس ویز منصوبہ کی ابتدائی لاگت 5.9ارب روپے تھی جو کہ بڑھ کر12.99ارب روپے ہو گئی ہے یہ منصوبہ2002ء میں شروع ہوا تھا جو کہ 30ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن 14سال بعد ابھی تک مکمل ہونے کے مراحل میں ہے۔ کراچی حیدرآباد موٹر ویز25ارب روپے سے شروع ہوا تھا جس کی لاگت بڑھ کر اب36ارب روپے ہو گئی ہے۔

یہ منصوبہ 2012 ء میں شروع ہوا تھا لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ملک کا اہم منصوبہ جو چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے منسلک کرتا ہے 1975ء میں بھٹو دور حکومت میں شروع ہوا تھا بعد میں یہ منصوبہ1977ء میں بند ہو گیا پھر مشرف دور حکومت میں یہ منصوبہ 2005ء میں شروع ہوا۔ ابتدائی لاگت7ارب روپے تھی جو بڑھ کر اب27ارب روپے ہو گئی ہے۔ حسن ابدال سے حویلیاں موٹروے کی ابتدائی لاگت30-97 ارب روپے تھی جو بڑھ کر34-37ارب روپے ہو گئی ہے۔ چلاس جھڑکنڈ سیکشن قومی شاہراہ کا منصوبہ 2-3ارب روپے سے شروع ہوا تھا جو بڑھ کر 7-8ارب روپے کا ہو گیا ہے اور 6سال تاخیر سے یہ منصوبہ مکمل ہو گا۔ اس کی کل لمبائی 68کلو میٹر ہے۔ گوادر ہوشاب ایم۔8 موٹرویز کا منصوبہ 13ارب روپے سے مکمل ہوا ہے یہ منصوبہ2006ء میں مکمل ہونا تھا لیکن 10سال بعد گزشتہ سال مکمل ہوا ہے۔ تخت بھائی اور برج کی ابتدائی لاگت 58کروڑ تھی جو بڑھ کر 84کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ نشتر گھاٹ پل 1988ء میں شروع ہوا تھا اب اس منصوبہ کی لاگت ساڑھے 5ارب تک ہو گئی ہے ۔ یہ منصوبہ بھی وقت پر مکمل نہیں کیا جا سکا۔ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کی بڑی وجہ ادارہ کے اندر بڑھتی ہوئی کرپشن اور افسران اور ٹھیکیداروں کا گٹھ جوڑ ہے۔ یہ ادارہ اب کرپشن کے انڈیکس میں سر فہرست ہے۔