Cloud Front

برازیل ، پولیس کی ہڑتال خونی جھڑپوں میں تبدیل ،120سے زائد ہلاکتیں ،درجنوں زخمی، فوج طلب

گزشتہ کئی روز سے پولیس اہلکار تنخواہوں میں اضافے کے لئے ہڑتال کر رکھی تھی
جھڑپوں کے دوران100 سے زائد گاڑیاں چوری، ملک کو30 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان

ریو ڈی جنیرو: برازیل میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے لئے گزشتہ کئی روز سے جاری ہڑتال نے خونی جھڑپوں کی صورت حال اختیار کر لی ہے جس میں اب تک 120 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برازیل کے صوبے اسپرنٹو سانٹو میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے گزشتہ کئی روز سے تنخواہوں میں اضافے کے لئے ہڑتال کی جا رہی ہے تاہم ہڑتال اس وقت خونی جھڑپوں میں تبدیل ہو گئی جب ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے زبردستی دکانیں، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند کرانے کی کوشش کی۔

پولیس اہلکاروں کی ہڑتال کے باعث سب سے زیادہ متاثر اسپرنٹو سانٹو کا دارالخلافہ وٹوریا ہوا جو اپنے سنہرے ساحلوں اور بندرگاہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہڑتال کے دوران وٹوریا میں صرف ایک روز میں 100 سے زائد گاڑیاں چرا لی گئیں جبکہ 30 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ کشیدہ حالات پر قابو پانے کے لئے فوج اور وفاقی پولیس کی اہلکاروں کی بڑی تعداد کو بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ تعینات کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب برازیلین پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ابھی کشیدگی جاری ہے جبکہ قتل کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے محکمے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو کسی نہ کسی طرح منشیات یا جرائم میں ملوث ہیں۔ اسپرنٹو سانٹو حکام کے مطابق حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے مزید سیکڑوں سکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے کیونکہ گشت پر رہنے والے 1800 پولیس اہلکار ہڑتال پر ہیں۔