Cloud Front
Amna Mufti

کالم : قدسیہ بانو!. . . . آمنہ مفتی

میں بانو قدسیہ کو جانتی ہوں اسی طرح جیسے میں اپنی امی، خالہ، لان میں لگے گلِ چین کے درخت، صدر دروازے پہ بنی مر غولی محراب کو جانتی ہوں۔ نانی اماں کے گھر میں جہاں ہر چیز صدیوں سے اپنی ٹکی ٹکائی جگہوں پہ رکھی تھی، دیوار پہ لگا وال کلاک، سبز درازیں، مہندی کی باڑ، شہ نشین پہ جھکا آم کا درخت اور کائی میں ڈوبی ممٹی پہ بیٹھی چیل کے پنجے۔ ان ہی چیزوں کے درمیان کونے والے خان صاحب کا ذکر بھی آتا تھا۔ کونے والے خان صاحب کی بھاوج ایک توپ لکھاری تھیں، جن کا ذکر گھر کے روزمرہ معمول میں شامل تھا۔

ٹیلی ویژن، ریڈیو پہ ان دونوں میاں بیوی کے ڈرامے تھے اور کتابوں رسالوں میں ان ہی کے افسانے۔ سامنے والے گھر میں ان کے ایک اور رشتے دار رہتے تھے جن کی ایک بیٹی مانو آنٹی کہلاتی تھیں۔ ان کے گھر میں درجنوں بلیاں پلی ہوئی تھیں۔ یہ سب مانوس تعلق اور ان کی طنابیں، داستان سرائے کے اس جوڑے سے جا ملتی تھیں جو اس دور میں کہانیوں کی روئی دھن دھن کے ادب کے آسمان کو کپاسی رنگ کے لفظوں سے سجائے جارہا تھا۔

ان ہی دنوں نانی اماں کے کوارٹر میں رہنے والی اماں نذیراں نے انکشاف کیا کہ کونے والے خان صاحب کی جو بھابھی قدسیہ ہیں وہ جادو گرنی ہے اور سامنے والی باجی کے ہاں جب مدت تک اولاد نہ ہوئی تو ایک دن انہوں نے ایک بلونگڑے کو سامنے بٹھا کر کہانی سنائی۔ بلونگڑا انسان بن گیا اور یہ مانو باجی اصل میں وہی بلونگڑا ہیں۔
اب جو اشتیاق کا عالم طاری ہوا کہ ایسی جادوگرنی سے تو ملنا چاہیے۔ مگر مصیبت یہ تھی کہ اس خواہش کا اظہار کس سے کیا جائے؟ جو سنتا ہنستا۔ ناچار ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان کی کتابیں پڑھنی شروع کیں، اسی زمانے میں راجہ گدھ بھی شائع ہوا۔ جوں جوں ان کو پڑھا توں توں اماں نذیراں جھوٹی لگتی گئی۔ مزے کی بات یہ کہ باوجود کوشش کے بانو آپا سے ملاقات نہ ہو پائی۔ چھٹیوں میں نانی اماں کے گھر جاتے تو کھیل کا بھوت ایسا دبو چتا کہ کچھ یاد ہی نہ رہتا۔

بچپن کی دیگر یادوں کے ساتھ یہ بات بھی یاد بن گئی۔ بانو آپا سے ملنے کی خواہش اب بھی تھی، لیکن اب یہ خیال مانع کہ ملنے کا جواز کیا ہو؟ اسی شرما شرمی میں کئی سال گزر گئے۔ جب میرا پہلا ناول چھپا تو میں اسے جواز بنا کر ملنے گئی۔ آپا بیمار تھیں ملاقات نہ ہو پائی۔ آخر پانچ سال پہلے ان ہی کے گھر ایک تقریب میں ملاقات ہوئی۔ سالوں کے تجسس میں لپٹی اس ملاقات کا بہت برا اینٹی کلائمیکس ہوا۔یہ بانو آپا تو ٹی۔ وی اور تصویروں میں نظرآتی بانو آپا سے بھی زیادہ سیدھی سادھی تھیں۔ مٹی کے پیالے میں پانی پینے والی یہ بانو تو وقت کے بوجھ کے نیچے اسی طرح چر مرا گئی تھی جیسے میری ماں، میری پھپھیاں، سب عورتیں چر مرا جاتی ہیں۔

میں بہت غور سے دیکھتی رہی مگر ذہن میں اماں نذیراں کی بات اٹکی ہوئی تھی۔ اس دن کے بعد سے بانو آپا سے بہت بار ملا قات ہوئی مگر میں نہ ان کے قریب جاتی تھی نہ ان سے براہِ راست بات کرتی تھی، دور بیٹھی انہیں دیکھے جایا کرتی تھی اور ذہن میں ایک بلونگڑا چھلانگیں مارتا پھرتا تھا۔

ان ہی دنوں ایک صاحب سے ملا قات ہوئی جو بانو آپا کی تصانیف کے عاشق تھے۔ میں نے ان کا خوب ٹھٹھا اڑایا کہ جائیے! بھلا یہ بھی کوئی ادیبہ ہیں؟ اتنا سادہ سادہ لکھتی ہیں اور ذرا ن پہ کی گئی تنقید بھی دیکھئے، وغیرہ وغیرہ۔ جب میں بہت بول بال چکی تو انہوں نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ بانوآپا کی تحریر کو سمجھنے کے لئے ان کے پاؤں چھونے ضروری ہیں۔
اتفاق سے اگلے ہی روز ایک تقریب میں میری آپا سے طویل ملاقات رہی اور گاڑی میں بٹھاتے ہوئے بہانے سے میں نے ان کے پیر چھو لیے۔ یہ حرکت میں کر تو گزری لیکن اندر ہی اندر خود کو بہت لعنت ملامت کی۔ اگر آپ مجھے اماں نذیراں نہ سمجھیں تو میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بانو آپا واقعی جادوگرنی تھیں۔ اس روز کے بعد میں نے ان کی ساری کتابیں دوبارہ پڑھیں اور اب کی بار مجھے ان سطور میں وہ خود نظر آئیں۔ چھہ سات ماہ پہلے میں نے ایک روز حفیظ طاہر صاحب کو فون کیا کہ بانو آپا سے ملنے چلتے ہیں وہ بہت بڑی ادیب ہیں۔ وہ بے چارے ہکا بکا کہ اس کو آج معلوم ہوا؟ خیر یہ ملا قات بھی ٹلتی رہی، یہاں تک کہ پانچ فروری کو آپا کی سناؤنی آگئی۔

مجھے دکھ بھی ہوا اور خوشی بھی۔ انہوں نے جانا تھا یہ ہی قانونِ قدرت ہے۔ خوشی مجھے اس بات کی ہے کہ میں نے ان کے پاؤں چھو لیے تھے اور بلونگڑے سے انسان بن گئی تھی۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے چاروں طرف اب بھی بہت سے بلونگڑے نما انسان کدکڑے لگاتے پھر رہے ہیں اور اب ان کے انسان بننے کی امید ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے!

بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام