Cloud Front

حکمران جماعت معاشی حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے، سینیٹر سلیم مانڈوی والا

وزرا ء معیشت کا جنازہ نکال کر دھمال ڈال رہے ہیں،مسلم لیگ ن بے بنیاد ، جھوٹی اور غیر حقیقی رپورٹس پر بغلیں بجارہی ہے
عوام کو مضحکہ خیز رپورٹس دکھا کر بے وقوف بنایا جارہا ہے
موجودہ حکومت کے دور میں 40 فیصد لوگوں کی معاشی حالت بد سے بد تر ہوئی ہے، 45 فیصد لوگوں کی معاشی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،بیان

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ حکمران جماعت معاشی حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے۔ وزراء معیشت کا جنازہ نکال کر دھمال ڈال رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون بے بنیاد ، جھوٹی اور غیر حقیقی رپورٹس پر بغلیں بجارہی ہیے۔ عوام کو مضحکہ خیز رپورٹس دکھا کر بے وقوف بنایا جارہا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ سرکاری اعدادو شمار یہ بتا رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں 40 فیصد لوگوں کی معاشی حالت بد سے بد تر ہوئی ہے جب کہ 45 فیصد لوگوں کی معاشی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ان حقائق کے باوجود حکمران معاشی ترقی کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اہم ملکی اثاثوں کو گروی رکھ دیا ہے ۔مسلم لیگ نون کے دور اقتدار میں غیر ملکی قرضے 74 ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکے ہیں اور خدشہ ہے کہ 2020 تک ملکی قرضہ 110 ارب ڈالرز سے تجاوز کرجائے گا، آج ہر پاکستانی ایک لاکھ 20ہزار روپے کا مقروض ہوچکا ہے، مسلم لیگ نون بتائے کیا یہ معاشی ترقی ہے؟ ۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران حکومت کو 15 ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کرنا ہے ۔ ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے سے پہلے قرضوں کی واپسی کا جواب دیا جائے۔معاشی ترقی کا یہ عالم ہے کہ آج کا کسان ہر روز احتجاج کرنے پر مجبور ہے۔

ملک بھر کے کاشتکار مسلم لیگ نون کی زراعت کش پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ معاشی ترقی اس قدر ہوئی ہے کہ تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔ ملکی برآمدات کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے۔ ایکسپورٹرز ٹیکس ری فنڈز کے لیے ایف بی آر کے چکر لگا رہے ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں ٹیکس وصولیاں ایک ہزار روپے سالانہ سے بڑھا کر 22 ہزار روپے سالانہ تک کیں مگر موجودہ حکومت کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں صرف 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ معاشی ترقی کے دعوے کرنے والی حکومت اب تک اپنے من پسند طبقوں کو چار مرتبہ ٹیکس ایمنسٹی دے چکی ہے اس کے باوجودایف بی آر بڑے بڑے ٹیکس چوروں کے سامنے بے بس ہوچکا ہے۔ ایف بی آر بااثر افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کی دعویدار حکومت کے دور میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری زمین پر آن پڑی ہے، اگر معاشی ترقی ہوئی ہے تو غیر ملکی سرمایہ کاری کہاں جا رہی ہے، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ حکمران خوابوں کی دنیا میں رہنے کی بجائے پاکستان کے معاشی حقائق کو تسلیم کریں