Cloud Front

لاہور:مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دھماکہ

لاہور:مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دھماکہ

لاہور : ابتدائی معلومات کے مطابق لاہور مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے فارما سٹیکل کا احتجاجی دھرنا جاری تھا کہ اس دوران دھماکہ ہوگیا، ابھی تک متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں‌، 7 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں‌
آج نیوز کی ڈی ایس این جی تباہ، کیمرہ مین زخمی

لاہور کے علاقے چیئرنگ کراس مال روڈ پر دھماکہ ہواہے جس کے باعث درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق مال روڈ چیئرنگ کراس پر کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاج جاری تھا کہ اچانک دھماکہ ہو گیا جس کے باعث درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا جارہاہے۔ذرائع کا کہناہے کہ دھماکہ ٹرک پر بنائے گئے سٹیج کے قریب ہواہے جبکہ مظاہرین بڑی تعداد میں ٹرک کے اردگرد موجود تھے ۔دھماکے کے باعث قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی ہے جبکہ فائربریگیڈکا عملہ بھی طلب کرلیاہے۔

لاہور میں خودکش حملہ، ڈ ی آئی جی ٹریفک ،ایس ایس پی آ پریشن سمیت کم ازکم 16 افراد جاں بحق 80 سے زائد افراد شدید زخمی
دھماکے گاڑیاں اور موٹر سائیکل تباہ عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ،ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی ، پو لیس نے 3مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا
پنجاب حکومت کا ایک روزہ سوگ منانے کا اعلان
صدر وزیر اعظم ،آرمی چیف سمیت دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی دھماکے کی مذمت

لاہور،اسلام آباد : فیصل چوک اسمبلی ہال چوک میں مال روڈ پر فا رما سیو ٹیکل ایسو سی ایشن کے احتجا جی دھر نے میں خودکش حملے میں ڈ ی آئی جی ٹریفک لاہور کیپٹن(ر)سیّد احمد مبین،ایس ایس پی آ پریشن زاہد نواز گوندل سمیت کم ازکم 16 افراد جاں بحق جبکہ80 سے زائد افراد شدید زخمی ہو گئے ،دھماکے کی اطلاع ملتے ہی حساس اداروں سمیت پو لیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی پو لیس نے 3مشکوک افراد کو حراست میں لیتے ہو ئے نا معلوم مقام پر منتقل کر نے کے بعدتفتیش شروع کر دی پو لیس نے جاں بحق ہو نے والوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خا نہ جبکہ زخمیوں کو ،گنگا رام ہسپتال ، ، سروسز ہسپتال اور میوہسپتال سمیت لاہور کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں طبی امداد کے لئے منتقل کردیا گیا جہاں پر20 زخمیوں کی حالت نازک بتا ئی جا تی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے رو زمال روڈ پر چیئرنگ کراس کے قریب ادویہ ساز کمپنیوں اور میڈیکل اسٹورز کے مالکان کا احتجاج جاری تھا کہ اس دوران 6 بج کر 7 منٹ پر زور دار دھماکا ہوا جس کے بعد جائے وقوعہ پر بھگدڑ مچ گئی جب کہ دھماکے کی جگہ آگ لگ گئی اور دھواں اٹھنے لگا۔ بم دھما کے کی اطلاع ملتے ہی پو لیس رینجرز اور پاک فو ج کے دستو ں نے فوری طور پر جا ئے وقو عہ کو اپنے گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھا کئے، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ قریب کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ ریسکیو اہلکاروں نے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا، دھماکے کے بعد لاہور بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو طلب کرلیا گیا۔

زخمیوں کو طبی امداد کیلئے ریسکیو1122،ایدھی اور فلاح انسانیت کی گاڑیوں نے زخمیوں کوگنگارام ،سروسز،اور میو ہسپتالوں میں منتقل کیا،دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس افسران ،اہلکاروں سمیت دیگر افراد کی لاشیں پولیس نے اپنی تحویل میں لے لی۔ پنجاب اسمبلی کے باہرمیڈیکل اسٹورز ایسوسی ایشن ڈرگ ایکٹ کے خلاف دھرنا دے رکھا تھا،صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں کے ساتھ میڈیکل اسٹورز ایسوسی ایشن کے راہنماؤں کے درمیان قریب 5بجے مذکرات ہونا تھے اور احتجا جی دھر نے کے شر کا ء مذا کرات ہو نے کا انتظا ر کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک نو عمر خود کش حملہ آور احتجاج میں داخل ہوگیااور خود کو اڑادیا جس کے نتیجے میں خوفناک دھماکا ہو گیا،دھماکے کے وقت سی سی پی او لاہور امین وینس، ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) احمد مبین اور قائم مقام ڈی آئی جی آپریشنز ایس ایس پی زاہد نواز گوندل جائے وقوعہ کے قریب پولیس نفری کے ہمراہ موجود تھے اور اس دوران دھماکا ہوگیا، ڈی آئی جی ٹریفک احمد مبین اور ایس ایس پی زاہد گوندل دھماکے کی زد میں آکر شدید زخمی ہوئے جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی،

دھماکے کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) احمد مبین زیدی،قائم مقام ڈی آئی جی آپریشن لاہورزاہدگوندل سمیت دیگر پو لیس اہلکار وں اور احتجا جی شر کا ء سمیت16افراد شہید جبکہ صحافیوں سمیت 80سے زائد افراد زخمی ہو گئے،دھماکے کے فوری بعد پولیس اہلکاروں نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا، عوام کو دھماکے کی جگہ سے دور کردیا گیا جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کرلیا گیا۔ پاک فوج کے دستے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور جائے وقوعہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے۔دھماکے کے نتیجے میں شہداء کی تعدادزیادہ تر پولیس اہلکاروں کی ہے، دھماکا اتنا شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ ایک نجی ٹی وی کی ڈی ایس این جی سمیت کئی گاڑیوں کو آگ بھی لگ گئی،دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں،دھماکے کی نوعیت معلوم کی جا رہی ہے ۔دھماکے کے بعد لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ،

بم دھما کے کی اطلا ع کے بعد شہریو ں کی بڑی تعداد ہسپتا لو ں میں خون کا عطیہ دینے پہنچ گئی جبکہ دھماکے کے باعث مال روڈ پر بد ترین ٹریفک جام ہو گیا،امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنا شروع کردیاہے۔ دھماکے کی آواز اس قدر شدید تھی کے پو رے علاقہ میں خوف ہراس پھیل گیا مقامی لوگ اپنی دوکانوں گھروں سے باہر نکل آ ئے عمارات کے شیشے ٹوٹ گئے ، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی حساس اداروں کے اعلی افسران سمیت سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر)محمدامین وینس ، ۔جبکہ وقو عہ کے فوری بعدحساس اداروں کے افسران نے علاقے کو چاروں طرف سے سیل کر دیا د قانون نافذ کر نے والے اداروں نے شہر بھر کے ہسپتالوں سمیت حساس مقاما ت کی سکیورٹی سخت کر دی لاہور کے داخلی اور خا رجی راستوں پر سکیورٹی کے لئے نفری کی تعداد میں اضا فہ کر دیا گیا

پو لیس نے وقوعہ کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کر تے ہو ئے علاقے میں سرچ آ پریشن شروع کر دیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق لاہوردھماکے حملہ آورکے اعضاء مل گئے ،دھماکے میں 6سے 8کلوبارودی مواداستعمال کیاگیا،پولیس کے مطابق لاہوردھماکے کے خودکش آورکے ہاتھ ،ٹانگیں اورجبڑاجائے وقوعہ سے مل گئے ،حملہ آورکے فنگرپرنٹس سے شناخت کی کوشش کی جارہی ہے ۔حملہ آورکی عمر20سے22سال کے درمیان ہے حملے میں 6سے8کلوگرام بارودی مواداستعمال کیاگیاہے۔پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کردیا، آج منگل کے روز سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہیں گے،وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور دھماکے کے بعد صوبے میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے۔

منگل کے روز پنجاب بھر کے سرکاری اداروں میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا جبکہ پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے لاہور دھماکے کی مذمت اور ایک روزہ سوگ کا اعلان کردیا پاکستان بار کونسل نے لاہور دھماکے کے بعد منگل کو یوم سوگ منانے جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔دریں اثناء مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے دھماکے کی شدید مذمت، جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا، وزیراعظم زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد ہمارے عزائم کو کمزور نہیں کر سکتے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا پیچھا کیا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی اور آئی جی پنجاب سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے،

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بزدلانہ کارروائی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وفاقی اور صوبائی وزراء، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر سندھ محمد زبیر، گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری، گورنر پنجاب، گورنر خیبرپختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا، وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے دھماکے کی شدید مذمت جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں سے دلی ہہدردی کا اظہار کیا، سابق صدر آصف علی زردار، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، ایم کیو ایم کے فاروق ستار، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے بھی دھماکے کی شدید مذمت، جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے

کہ انسانیت کے دشمن کسی بھی رعائت کے مستحق نہیں ہیں ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔اس دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بنی لاہور دھماکے کی مذمت اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے لاہور میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔