Cloud Front

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے مداح میں ٹرمپ کی بیٹی بھی شامل

ٹرمپ اور جسٹن ٹروڈو کی ملاقات، تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق
تارکین وطن افراد کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہنے کی پالیسی کو جاری رکھیں گے،
کینیڈین وزیراعظم

واشنگٹن: کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا فین کلب بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اب ان کے فینز میں امریکی صدر کی بیٹی ایوانکا بھی شامل ہوگئی ہیں۔دورہ واشنگٹن کے دوران کینیڈا کے وزیراعظم نے وائٹ ہاوس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کی اور خواتین تاجروں کی گول میز کانفرنس میں شرکت کی۔وزیراعظم ٹروڈو کمرے میں داخل ہوئے تو ایوانکا نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔اجلاس میں کینیڈین وزیراعظم کی کرسی ایوانکا کے برابر ہی رکھی گئی تھی۔صدر ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیراعظم نے اس موقع پر اہم تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات اور اس میں خواتین کا کردار بڑھانے میں ایوانکا اہم کردار ادا کرسکتی ہیں ، علا وہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کینڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماوں نے باہمی تجارت سمیت دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ،تاہم امیگریشن پالیسی پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلاف واضح طور پر نظر آیا ہے۔وائٹ ہاوس میں ہونیو الی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ کینیڈا اور امریکا کو تجارتی پلوں کے ذریعے ملائیں گے اور ایک دوسرے سے اور قریب لائیں گے۔ امریکا بہت خوش قسمت ہے کہ اسے کینیڈا جیسا ملک اس کا ہمسایہ ہے۔امیگریشن پالیسی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسے لوگوں کو امریکا میں آنے دیا کہ جو مجرمانہ ریکارڈ کے حامل تھے ، لیکن اب ہم ان سب کو باہر نکال دیں گے۔اس موقع پر کینڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات نتیجہ خیر رہی اور دونوں ملکوں کے درمیان سیکورٹی اور امیگریشن امور پر مل کر کام کرنے پر اتفاق ہوا ،تاہم کینیڈین حکومت کی امیگریشن پالیسی کے حوالے سے ٹروڈو کا کہنا تھا کہ اپنے شہریوں کا محفوظ رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا تاہم اس کے باوجود ہم تارکین وطن افراد کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہنے کی پالیسی کو جاری رکھیں گے۔