Cloud Front
Pervez Musharraf

سیاسی طاقت ضرور بناؤں گا جو ملک سے ناانصافی دور کر ے ، پرویز مشرف

حکومت چلانے کا شوق نہیں، سیاسی طاقت ضرور بناؤں گا جو ملک سے ناانصافی دور کر ے
پی پی اور ن لیگ نے قوم کو رلادیا،ٹرمپ کو اپنے موقف پرلایا جاسکتا ہے،حافظ سعید دہشت گرد نہیں،باور کروایا جائے کشمیرمیں مجاہدین نہیں بھارتی فوجی اقوام متحدہ کی قرارداد روند رہے ہیں
گوادرپورٹ ،سی پیک میرے شروع کئے ہوئے منصوبے ،جو فائدہ ہوناچاہئیے تھاوہ نہیں ہورہا،چین سے برابری کی سطح پر مفادات کی بات کی جائے،نجی ٹی وی کو انٹرویو

اسلام آباد: آل پاکستان مسلم لیگ کے چئیرمین وسابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہیں حکومت چلانے کا شوق نہیں،مگرملک سے ناانصافی کے خاتمے کے لئے سیاسی سیٹ اپ ضرور بنائیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں پر رونا آتا ہے،ہماری خارجہ پالیسی بکھری ہوئی ہے،اقوام متحدہ سے حافظ سعید کو دہشت گردقراردلوانا کامیاب بھارتی خارجہ پالیسی ہے،ہم اقوام متحدہ کو باور نہیں کروا سکے کہ حافظ سعید اور کشمیری مجاہدین دہشت گرد نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قرارداد بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں روند رہے ہیں،ٹرمپ انتظامیہ کو اپنے موقف پر لایا جاسکتا ہے،امریکہ کو چھوڑ کر صرف روس اور چائنا کے ساتھ نہیں چل سکتے،متوازن خارجہ پالیسی بنائی جائے،گوادر پورٹ،بھاشا ڈیم اور سی پیک میرے ہی شروع کئے گئے منصوبے ہیں مگر ان منصوبقں سے قوم کو جو فائدہ ملنا تھا وہ نہیں مل رہا،

منصوبوں پر کام کے لئے لیبر اور مشینری ہماری ہونی چاہئیے۔چین سے برابری کی سطح پر مشترکہ مفادات کی بات کی جائے۔عنقریب تیسری سیاسی قوت سامنے لائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایک نجی (ایکسپریس نیوز)ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں ہرگز اس بات کا شوق نہیں کہ وہ ایم این اے بنیں اور حکومت چلائیں،وہ ایک ایسی سیاسی جماعت سامنے لانا چاہتے ہیں جو انصاف مہیا کرے۔کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا،اگر ہم اسی طرح سے چلتے رہے تو مستقبل تاریک ہے۔انہوں نے خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کا وزیرخارجہ ہی نہیں جو موثر خارجہ پالیسی بنا سکے۔حافظ سعیداور مسئلہ کشمیر جیسے معاملات پر ہماری حکومت بھارت کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔اقوام متحدہ میں حافظ سعید کو دہشت گردقراردلوانابھارت کی مضبوط اور ہماری کمزور خارجہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے،ہمیں اقوام متحدہ کو باور کروانا چاہئیے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے لئے لڑنے والے مجاہدین نہیں بلکہ بھارتی فوجی اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اپنے بوٹوں تلے روند رہے ہیں۔

اگر ہماری خارجہ پالیسی مضبوط ہو تو ٹرمپ انتظامیہ کو اپنے موقف پر لایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں روس اور چائنا کو ساتھ ملا کر چلنا چاہئیے مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ ہماری درآمدات اور برآمدات پچاس سے ساٹھ فیصدی امریکہ کے ساتھ ہیں۔سعودی عرب اور متحدہ ارب امارت کبھی ہمارے دوست تھے مگر ہماری غلط خارجہ پالیسی کی بنا پر وہ ہم سے دور ہورہے ہیں۔دوبئی میں برج خلیفہ پر ترنگا کا لہرایا جانا ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔امت مسلمہ بھی ہمارے لئے بہت اہم ہے اس لئے ہمیں قومی مفادات دیکھ کر متوازن پالیسی کے ساتھ سب کو لے کرچلنا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ ویژن نہ ہونے کی وجہ سے سی پیک اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں کے وہ فوائد ہمیں نہیں مل رہے جو ملنے چاہئیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ پیسہ چین لگا رہا ہے مگر انٹرسٹ ریٹ آٹھ فیصد ہے جبکہ یہ ایک فیصد ہونا چاہئیے تھا۔منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے لیبر اور مشینری چین سے لائی جارہی ہے جبکہ ہم خود بے روزگاری کے شکار ہیں،یہ چیزیں ہماری ہونی چاہئیں تھیں۔گوادر پورٹ،سی پیک اور بھاشا ڈیم ہمارے شروع کئے گئے منصوبے ہیں۔موجودہ حکومت بے شک اس کا کریڈٹ لے مگراسے چائنا کے ساتھ برابری کی سطح پر مشترکہ مفادات پر بھی بات کرنی چاہئیے۔الطاف حسین نے جو کچھ کیااور کہا اس کے بعد ان کو کوئی بھی پاکستانی قبول نہیں کرے گا۔مہاجر کمیونٹی تین حصوں میں بٹ گئی ہے۔

اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا۔مصطفی کمال کو چاہئیے کہ سوچ سمجھ کر بات کریں،دیکھنا ہوگا کہ کون مہاجروں کو متحد کرسکتا ہے۔مہاجر کمیونٹی اور کئی ایک دیگر سیاسی راہنما بکھرے ہوئے ہیں،یوں قومی سیاست میں ایک خلا بن گیا ہے۔ان سب لوگوں کو متحد کر کے خلا کو پر کریں گے اور قوم کو خوشخبری دیں گے۔ڈان لیکس پر کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔ان کے خیال میں مریم نواز اور پرویز رشیدملوث ہیں۔یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اجلاس کی باتیں ان تک کس نے پہنچائیں۔پرویز مشرف نے کہا کہ ہمیں پورے ملک کو دیکھنا چاہئیے اور انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کرنا چاہئیں،ان سے وفاق مضبوط ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی ایک ذاتی زندگی بھی ہے جسے وہ انجوائے کرتے ہیں،وہ بریج اور گالف بھی کھیلتے ہیں تاہم کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کوئی ان کی ذاتی زندگی پر تنقید کرے۔