Cloud Front
Fawad and Naeem Ul Haq

شر یف خا ندا ن بتا ئے 1980 میں دیئے گئے 12 ملین درہم 1999 تک کس طرح بلین بن گئے!

شر یف خا ندا ن بتا ئے 1980 میں دیئے گئے 12 ملین درہم 1999 تک کس طرح بلین بن گئے،فواد چودھری
شیئرز کے منتقلی کے ثبوت کہاں ہیں شریف فیملی کے وکلاء ثبوت دینے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد : تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے کہ 1980 میں 12 ملین درہم نواز شریف کے والد نے ایسے شہزادے کو دیئے جنہیں وہ جانتے ہی نہیں تھے پھر ملین 1999 تک کس طرح بلین بن گئے ۔ دستاویز مانگنے پر ٹال مٹول کیا جاتا ہے پھر حسین نواز کی ملکیت کہاں ہے شیئرز کے منتقلی کے ثبوت کہاں ہیں شریف فیملی کے وکلاء ثبوت دینے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔ 81 ویں پیشی کے بعد ہی سوال جواب وہی ہیں عدالت نے کہا ہے کہ کیس میں خلاء ہے جبکہ عارف علوی نے کہا کہ دو بچوں کے لئے 4 اپارٹمنٹس کیوں خریدے گئے ۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان تحریک انصاف فواد چودھری نے کہا کہ نواز شریف کے والد محمد شریف نے 1980 میں 12 ملین درہم کی ایسے قطری شہزادے کے ساتھ سرمایہ کاری کی جن کو وہ جانتے بھی نہیں تھے اور پھر 1980 کے یہ ملین 1999 تک ملٹی بلین کس طرح بن گئے پھر حسین نواز کو ملکیت کیسے دی گئی ۔ شیئرز اور ٹرانسفر سمیت منی ٹریل کے کوئی ثبوت بھی موجود نہیں ہیں حالانکہ عدالت نے حسین شریف کی ملکیت کی ڈیڈ مانگی ہے لیکن شریف فیملی کے وکلاء کے پاس کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہے اور حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا جا رہا ہے حالانکہ عدالت نے خود تسلیم کیا ہے کہ کیس میں بہت خلاء ہے انہوں نے کہا کہ 1980 کے دستاویز کا حوالہ تو دیا جاتا ہے لیکن اس کے ثبوت موجود نہیں ہیں جوکہ دوہرا معیار ہے ۔ فواد چودھری نے کہا کہ شریف فیملی نے ملکی وسائل کو لوٹا ہے اور یہ تقریباً ثابت ہو چکا ہے اب آخری دن مسلم لیگ(ن) کے ہیں جو کہ وہ گزار رہی ہے لیکن افسوس ہے کہ دانیال عزیز کو وزارت نہیں دی گئی حالانکہ پی تی آئی کی بڑی کوشش تھی کہ ان کو وزارت سے نوازا جائے ۔

تحریک انصاف کے راہنما عارف علوی نے کہا کہ عدالت نے پوچھا کہ آخر دو بچوں کے لئے چار اپارٹمنٹس کیسے خریدے گئے اب شریف فیملی کے وکلاء کے پاس جواب نہیں تھا تو انہو ں نے پھر شہباز شریف کے بچے کو ڈال دیا کبھی نیب کو تفتیش کرنے کا کہتے ہیں تو کبھی کمیشن کے پاس کیس سننے کی اتھارٹی نہ ہونے کا کہتے ہیں ۔ کہانی بڑھتی جا رہیہے لیکن ثبوت ایک بھی نہیں ہے ایک سوال کے جواب میں عارف علوی نے کہاکہ دو نمبر داواؤں کی تیاری پر پیسہ لیا جاتا ہے ۔ رانا ثناء اللہ کی مزمت کرتا ہوں اگر لوگ احتجاج کے لئے جمع نہ ہوتے تو دھماکہ نہ ہوتا.