Cloud Front
SUprem Court

پاناما کیس:نیب اورایف بی آر کے چیئرمین آئندہ سماعت پرطلب

ایک چونی کا کام نہیں ہوا،ہمارا وقت ضائع کیا گیا ،سپریم کورٹ
ہم وزیر اعظم یا کسی اور کو نہیں قانون کو دیکھیں گے ، ہم چلے جائیں گے لیکن وضع کردہ قانون ہمیشہ رہے گا،جسٹس عظمت سعید کے ریمارکس
دادا دنیا میں نہیں رہے، بچے کما نہیں رہے، کلثوم نواز گھریلو خاتون ہیں، ایسے میں صرف ایک ہی شخص بچ جاتا ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ
لندن جائیداد سے متعلق فنڈز کی تفصیلات دستاویزات میں شامل ہے نہ ہی قطر میں کاروبار کا کوئی ریکارڈ موجودہے،جسٹس اعجاز الاحسن
فروری 2006سے جولائی 2006تک مریم نواز بطور ٹرسٹی شیئر ہولڈر رہی ہیں،سلمان اکرم راجا کے دلائل مکمل ،مزید سماعت 21 فروری تک ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق کیس میں آئندہ سماعت پرنیب اور ایف بی آر کے چیئرمین کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی جبکہ دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس د یئے ہیں کہ کیس میں ایک چونی کا کام نہیں ہوا ہمارا وقت ضائع کیا جارہا ہے ، ہم وزیر اعظم یا کسی اور کو نہیں قانون کو دیکھیں گے کیونکہ ہم چلے جائیں گے لیکن وضع کردہ قانون ہمیشہ رہے گا، یہی وجہ ہے کہ کیس اتنے عرصہ سے سن رہے ہیں، جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لندن فلیٹس کے حوالے سے شریف خاندان کے بیانات میں تضاد ہے ، دادا دنیا میں نہیں رہے،

بچے کما نہیں رہے، کلثوم نواز گھریلو خاتون ہیں، ایسے میں صرف ایک ہی شخص بچ جاتا ہے،184/3 کے تحت ایمانداری پر ڈکلیریشن دینا عدالت کا اختیار ہے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ لندن جائیداد سے متعلق فنڈز کی تفصیلات دستاویزات میں شامل ہیں نہ ہی قطر میں کاروبار کا کوئی ریکارڈ موجودہے ۔جمعرات کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل ، جسٹس گلزار احمد ، جسٹس شیخ عظمت سعید ،اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ، مقدمہ سماعت کے آغاز پر حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے ا پنے موکل کی جانب سے منروا کے ساتھ سروسز ، ادائیگیوں اور لندن فلیٹس سے متعلق ریکارڈ جمع کر ایا اور عدالت کو بتایا کہ تمام دستاویزات گزشتہ رات لندن سے منگوائی گئی ہیں ، سلمان اکرم راجہ کا کہناتھا کہ حسین نواز کے نمائندے ایرینا کمپنی کی جانب سے معاہدہ کیا اور حسین نواز کی جانب سے فیصل ٹوانہ کو نمائندہ مقرر کیا گیا تھا، فیصل ٹوانہ حسین نواز کی جانب سے منروا کمپنی سے ڈیل کرتے تھے جبکہ انکوں تمام ہدایت حسین نواز ہی دیتے تھے ،

اس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ جو دستاویزات آپ دکھارہے ہیں وہ آف شورکمپنیوں کے ڈائریکٹرز کے نام ہیں، سوال یہ ہے کہ نیلسن اور نیسکول کا ڈائریکٹر کون تھا، دستاویزات سے ثابت کریں کہ حسین نواز کمپنیاں چلا رہے تھے ، جبکہ حسین نواز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ فروری 2006سے جولائی 2006تک مریم نواز بطور ٹرسٹی شیئر ہولڈر رہی ہیں ، 2006میں منروا کمپنی کے نام رجسٹرڈ شیئرز جاری ہوئے ہیں ،منروا کمپنی نے نیلسن اور نیسکول کے اپنے ڈائریکٹرز دیئے ، 2014 میں شیئرز منروا سے ٹرسٹی سروسز کو منتقل ہو گئے تھے ، فروری سے جولائی تک شیئرز مریم نواز کے پاس رہے ہیں ، لیکن بیئریرسرٹیفکیٹ کی منسوخی سے مریم نواز کے بطور شیئرز ہولڈر حیثیت ختم ہو گئی ہے ، جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ حسین نواز کے پاس لندن کے پوش علاقے میں مہنگی جائیدادوں کے لئے سرمایہ کاری کو بھی دیکھنا ہے کیونکہ حسین نواز کے پاس اتنی مہنگی جائیداد لینے کے لیے سرمایہ نہیں تھا، کیا شیئرز ٹرانسفر ہونے سے ٹرسٹ ڈیڈ ختم ہو گئی، مریم نواز اگر حسین نواز کے نمائندے کے طور پر کام کرتی تھی تو اس دستاویز کو بھی دیکھنا ہے ،اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حسین نواز کو جائیداد قطری سرمایہ کاری کے بدلے ملی،

اگر مریم نواز والد کی زیر کفالت ثابت بھی ہو تب بھی فلیٹس کی مالک ثابت نہیں ہوتیں، وہ دستاویز ٹرسٹ ڈیڈ ہے جو حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان 2006 میں ہوئی۔ سرٹیفکیٹ منسوخی سے ٹرسٹ ڈیڈ ختم نہیں ہوئی، مریم کے بینفیشل مالک ہونے کی جعلی دستاویزعدالت میں جمع کروائی گئی، موزیک نے اپنی دستاویز سے لاتعلقی ظاہر کی تھی جب کہ مریم نوازنے بھی کہا ہے کہ دستاویز پر دستخط ان کے نہیں اس پر جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ یہ دستاویزات آئی کہا ں سے ہیں ،

جس پر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ لگتا ہے موزیک والی دستاویزات فراڈ کر کے تیار کی گئی ہیں ،دستاویزات کون کہاں سے لایا اس حوالے سے کوئی علم نہیں ہے ، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کہنا چاہتا ہیں کہ کہ فلیٹس سے متعلق چین مکمل ہو چکی ہے ؟ جبکہ سلمان اکرم راجہ نے دوران سماعت اصغر خان کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصغر خان کیس میں اسد درانی اور اسلم بیگ نے الزمات کو تسلیم کیا ہے ،اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا اصغر خان کیس میں شواہد ریکارڈ ہوئے تھے ،جس پر سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیارکیا کہ الزامات تسلیم کر لینے پر شواہد ریکارڈ کرنے کی ضرورت نہیں تھی ، ، جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ حسین نواز کے پاس اتنی مہنگی جائیداد لینے کے لیے سرمایہ نہیں تھا ؟ اس پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ جائیداد قطری سرمایہ کاری کے بدلے حسین نواز کو ملی جبکہ دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہم تقایر کو نظر انداز کرتے ہیں تو قصور وار ہوتے ہیں ،

جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ ججز کا معاملہ نہیں ججز آتے جاتے رہتے ہیں ، بات اصول کی ہے جو ہمیشہ رہتے ہیں ، اس پر سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا عدالت اس حوالے سے خود کچھ نہیں کر سکتی لیکن کمیشن تشکیل دے سکتی ہے جو معاملے کی تحقیقات کرے ، اس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ہم کمیشن بنا سکتے ہیں یا معاملہ تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کو بھجوا سکتے ہیں ،لیکن کہا جاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے تو پھر ہم کیا کریں اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں ایک چونی کا کام نہیں ہوا ہمارا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ مقدمہ صرف یہ ہے کہ مریم نواز جائیداد کی بینیفیشل ٹرسٹی ہیں یا نہیں،آپکو صرف مریم نوا ز کے حوالے سے دستاویز دینی تھیں، دھیان کریں مجھے کہیں دوبارہ دوائی نہ کھانی پڑ جائے، ہمارے پاس ایک مقدمہ مریم نواز کے فلیٹس کے مالک ہونے کا سامنے آیا ہے ،دوسرا مقدمہ سراج الحق کا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ کرپشن کو نظر انداز نہ کیا جائے اور ملوث افراد کو نا اہل قرار دیا جائے، اگر وہ ثابت کرتے ہیں تو ٹھیک ورنہ سراج الحق کی درخواست سیاسی رقابت ہی سمجھی جائے گی۔جسٹس عظمت سعید نے سلمان اکرم راجا سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ اگر نعیم بخاری کے دستاویزات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو آپ کی کہانی کہاں جائے گی،آپ پھر راول ڈیم جاکر مچھلیاں پکڑنا، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ نعیم بخاری کی دستاویزات کی تصدیق ممکن ہی نہیں، میں بھی عدالت کے سامنے قانونی سوال اٹھا رہا ہوں ،

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ ہم وزیر اعظم یا کسی اور کو نہیں قانون کو دیکھیں گے کیونکہ ہم چلے جائیں گے لیکن وضع کردہ قانون رہے گا، یہی وجہ ہے کہ کیس اتنے عرصہ سے سن رہے ہیں جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا دستاویزات نہ دینا آپ کی حکمت عملی تو نہیں ہے؟، آپ کہتے ہیں کہ ہمیں سارا سرمایہ قطری نے دیا، اتنے بڑے کاروبار اور لین دین کا آپ نے کوئی حساب نہیں رکھا، کیس میں 2 باتیں ہوسکتی ہیں،یا ہم قطری والاموقف تسلیم کریں یا نا کریں کیونکہ آپ کے پاس ایک یہی موقف ہے اور دستاویزات نہیں ہیں، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ میرے پاس جو دستاویزات تھیں پیش کر دیں،عدالت کودیکھناہے کہ کیایہ جرم ہے یاریکارڈنہ رکھنے میں کوئی لاقانونیت ہے۔ اب اگر آپ قطری والا موقف تسلیم نہیں کرتے تو پھر درخواست گزار کو ثابت کرنا ہے کہ ہم نے جرم کیا کیا ہے، جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اسی لیے تو میں کہہ رہا ہوں کہ آپ جوا کھیل رہے ہیں اور جوا کسی کے حق میں بھی جا سکتا ہے۔ جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کیاسپریم کورٹ خو د کمیشن تشکیل دیکرانکوائری نہیں کرسکتی،؟سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آرٹیکل 10 اے میں شفاف ٹرائل کا کہا گیا ہے،

فوجداری معاملے کا ٹرائل کمیشن نہیں کر سکتا، کمیشن انکوائری میں صرف اپنی رائے دے سکتا ہے، کسی شخص کو سزا یا جزا نہیں دے سکتا۔ جب کو ئی جرم ہوا نہیں تو کمیشن بنانے کا جواز بھی نہیں ہے ،جسٹس آصف سعید نے ریمارکس دیئے کہ مقدمے کی نوعیت کیا ہے اس کا فیصلہ آخر میں کریں گے ، لیکن آرٹیکل 184/3 تحت عدالت ڈکلیریشن دے سکتی ہے ،اور 184/3 کے تحت ایمانداری پر ڈکلیریشن دینا عدالت کا اختیار ہے ، جرم کی تحقیقات متعلقہ ادارے ہی کرتے ہیں ، جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپکے موکل نے بھی جائیداد دیں ہونے کا اعتراف کیا ہے ، جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا جائیداد سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ لندن جائیداد سے متعلق فنڈز کی تفصیلات دستاویزات میں شامل ہیں نہ ہی قطر میں کاروبار کا کوئی ریکارڈ موجود ہے ،

جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ شیطان کو بھی وضاحت کا موقع دیا گیا تھا، عدالت وضاحت مسترد کردے تو بھی درخواست گزارکاموقف تسلیم نہیں کیا جا سکتا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ شیطان کو صفائی کا موقع شریعت کے قانون کے مطابق دیا گیاجبکہ سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اکرم راجا سے استفسار کیا کہ لندن فلیٹس کے حوالے سے خاندان کے بیانات میں تضاد ہے، دادا دنیا میں نہیں رہے، بچے کما نہیں رہے، کلثوم نواز گھریلو خاتون ہیں، ایسے میں صرف ایک ہی شخص بچ جاتا ہے ۔امریکہ میں سربراہ مملکت کے خلاف تحقیقات ہوں تو اس کے لیے الگ ادارہ ہے، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ میں اس کام کے لیے الگ ادارہ قانون کے مطابق بنایا جاتا ہے،امریکہ میں یہ کام عدالتوں کے ذریعے نہیں ہوا، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ جب تحقیقاتی ادارے آزاد تھے تب عدالتیں مداخلت نہیں کرتی تھیں، وقت اور حالات کے مطابق عدالتوں کو مداخلت کرنا پری، ملزم کی گرفتاری کے سوال پر برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ سے پوچھا جاے، ادارے لکھ دیں کہ کچھ نہیں کر سکتے تو عدالت کیا کرے، جبکہ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ حدیبیہ مل کیس میں اپیل نہ کرنے کی نیب کی وجوہات ٹھوس نہیں ہیں 160طیارہ سازش کیس میں نواز شریف نے بھی مقررہ مدت کے بعد اپیل کی تھی سپریم کورٹ نے تاخیر سے آنے والی اپیل بھی منظور کی، قانون سب کے لیے یکساں ہے، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عدالتی کاروائی پبلک ٹرائل بنتی جا رہی ہے،

میڈیا اورہمارے ساتھی روزانہ شام کو فیصلہ سنا رہے ہیں، 184/3کے تحت عدالت کوئی فیصلہ دے تو اپیل کا حق استعمال نہیں ہو سکتا۔ اپیل کے حق کا تصور اسلامی قوانین میں بھی موجود ہے ،جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ عدالت کسی بھی شخص کو فیصلے کے خلاف اپیل کے حق سے محروم نہیں کر سکتی ،سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 184/3 کے تحت مقدمے میں عدالت متنازعہ حقائق میں نہیں جا سکتی، آج بھی پی ٹی آئی نے 800 صفحات جمع کروائے ہیں، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آپ بھی اس کے جواب میں سیکڑوں صفحات جمع کروا دیں، اتنی دستاویز آئیں گی تو کیس کیسے ختم ہو گا، کہیں یہ سازش تو نہیں کہ کیس مکمل ہی نہ ہو ۔ وزیراعظم کے صاحبزادوں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے سماعت کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے چیئرمین نیب اور چیئرمین ایف بی آر کو طلب کرلیا ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین نیب اور پراسکیوٹر جنرل حدیبیہ پیپر مل منی لانڈرنگ کیس کا مکمل جائزہ لے کر آئیں، عدالت ان سے اس معاملے پر سوالات کرے گی۔