Cloud Front

کراچی لاہور اور اسلام آباد کے جدید ہوائی اڈ وں کی غیر قانونی نجکاری ہائیکورٹ میں چیلنج

اسلام آباد: کراچی لاہور اور اسلام آباد کے جدید ہوائی اڈوں کی غیر قانونی نجکاری کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، عدالت کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کے مروجہ طریقہ کار اور شفاف نیلامی کی بجائے اربوں روپے کے قومی اثاثے نامعلوم ٹھیکیداروں کو سونپے جارہے ہیں، جسکے نتیجے میں سول ایوی ایشن کے ہزار تجربہ کار اہلکار بے روزگاری کا شکار ہو جائیں گے، ایک رٹ پٹیشن میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے ہوائی اڈوں کو ٹھیکے پر دینے کیلئے کابینہ سے اجازت نہیں لی اور نہ ہی اس مقصد کیلئے پارلیمنٹ نے متعلقہ قانون میں ضروری ترمیم کی ہے،

درخواست گزار صحافی شاہد اورکزئی نے کہا کہ سول اور قومی ہوائی اڈے دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں اور آئین ان حساس تنصیبات کو پرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیتا، پٹیشن میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا کوئی وفاقی ادارہ اپنے بنیادی فرائض کسی ٹھیکدار کو سونپ سکتا ہے، واضح رہے کہ محکمہ شہری ہوابازی نے تین بین الاقوامی ہوائی اڈوں کا انتظام براہ راست ٹھیکیداروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اسکے لئے کمپنیوں کی انتظامی استعداد جانچنے کا کوئی طریقہ کار نہیں رکھا گیا، حکم امتناعی کی درخواست میں کیا گیا کہ ہوائی اڈوں کی سلامتی کو خطرات درپیش ہیں اور انکا کنٹرول پرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا، جبکہ شہری ہوابازی کی انتظامیہ 25مارچ کو پیشکشوں کا جائزہ لیکر تینوں اڈوں کے انتظامی چارج کامیاب بولی دھندہ کے حوالے کرے گی اسلام آباد کے جدید ھوائی اڈے میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے کیا گیا ہے کہ انہیں یکم اگسٹ سے اڈے کو فعال کرنا ہوگا