Cloud Front
donald trump

امریکا: سفری پابندی کا نیا ایگزیکٹو آرڈر آئندہ ہفتے جاری کرنے کا اعلان

اندرونی اور بیرونی مسائل ورثے میں ملے: ڈونلڈ ٹرمپ
تمام مسائل کو باریکی اور متوازن شکل میں حل کر یں گے ، پریس کانفرنس سے خطاب

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اندرون ملک افراتفری اور بیرونی کشیدگی ان کی پیدا کردہ نہیں بلکہ انہیں ورثے میں ملی ہے۔ امریکی انتظامیہ تمام مسائل کو باریکی کے ساتھ اور متوازن شکل میں حل کرے گی۔وائیٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پناہ گزینوں کے امریکا میں داخلے کے حوالے سے پالیسی پر قائم ہیں۔ ایک وفاقی عدالت نے پناہ گزینوں اور سات مسلمان اکثریتی ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی میں رکاوٹ ڈالی ہے مگر وہ آئندہ ہفتے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم بہت جلد اپنی قوم کے تحفظ کے لیے ایک نیا اور جامع حکم نامہ جاری کریں گے۔ادھر دوسری جانب امریکی وزارت انصاف نے سان فرانسسکو کی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے پناہ گزینوں کی آمد روکنے کے حوالے جاری کردہ صدارتی آرڈر کی معطلی کا فیصلہ واپس لیں۔ وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو اتھارٹی عدالت میں وقت ضائع کرنے کے بجائے آرڈر کے مسودے میں ترمیم کو ترجیح دے گی۔حکومتی وکلاء4 نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اور عدلیہ کا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں۔ صدر عدالتوں کے ساتھ ٹکراؤ کے بجائے پہلے آرڈر کو منسوخ کرکے نیا آرڈر جاری کرنا چاہتے ہیں جس میں وسیع تر ترامیم کی گئی ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وزارت انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی سلامتی کے برطرف مشیر کو ہٹائے جانے کی وجہ بننے والے خفیہ معلومات کے افشاء4 کے اسکینڈل کی تحقیقات شروع کرے۔انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کا کوئی عہدیدار حساس معلومات کیسے افشاء4 کرسکتا ہے۔ ‘راز لیک کرنا سنگین جرم ہے‘۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ راز افشاء4 کرنے کا معاملہ نہایت سنجیدہ ہے اور اسے خفیہ اداروں کے عہدیداروں کو سونپ دیا گیا ہے۔

میں نے وزارت انصاف سے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ راز افشاء4 کرنے کے معاملے کی جامع تحقیقات کرے۔اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی ٹیم کے روسی حکومتی عہدیداروں سے بار بار رابطوں کی اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ان کا یا ان کے کسی ساتھی کا روسی حکام کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران کسی قسم کا ٹیلیفونک رابطہ نہیں ہوا۔صدر ٹرمپ نے تنقید کرنے والے ابلاغی اداروں کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ ملک میں بہت سے صحافتی ادارے لوگوں سے جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ بے لگام صحافتی ادارے اور ذرائع ابلاغ شفافیت کے فقدان کا شکار ہیں۔