Cloud Front
PSL logo

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل ، پی ایس ایل میں شریک کرکٹرز حد سے زیادہ محتاط ہوگئے

دبئی : اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد پی ایس ایل میں شریک کرکٹرز حد سے زیادہ محتاط ہوگئے، سیلفیز بنوانے اور آٹوگراف لینے کے خواہشمند پرستاروں کی امیدیں حسرت میں بدلنے لگیں۔پاکستان سپر لیگ کے پہلے میچ میں ہی اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آگیا تھا جس کے بعد الزامات کی زد میں آنے والے شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کرکے وطن واپس روانہ کرنے کے بعد فرنچائزز کی مینجمنٹ اور کرکٹرز نے اس ناخوشگوار واقعے کا گہرا اثر لیا ہے۔سیلفی کے خواہشمند نوجوان سے ایک کھلاڑی نے ازراہ مذاق کہا کہ کہیں تم بکی تو نہیں ہو،

غیر ملکی کھلاڑی بھی پہلے کی طرح پرستاروں کا خوش دلی سے استقبال کرتے نظر نہیں آتے۔ کیون پیٹرسن اور برینڈن میک کولم خاص توجہ کا مرکز تھے، کئی نوجوان ان کے ساتھ تصاویر بنوانے اور آٹو گراف لینے کے خواہشمند تھے لیکن اب اہوں نے منع کردیا۔دوسری جانب فرنچائز مالکان لاہور میں فائنل کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنے سے گریز کررہے ہیں، البتہ پی ایس ایل کی گورننگ کونسل کے سربراہ نجم سیٹھی غیر ملکی کرکٹرز کی شمولیت ممکن بنانے کیلیے سرگرم ہیں تاہم چند کھلاڑیوں کے انکار کی صورت میں متبادل پول تیار کرنے کیلیے نیا ڈرافٹ 22فروری کو کرایا جائے گا جس کے بعد ممکنہ کرکٹرز اور ان کی جانب سے معاوضے دونوں کو خیال میں رکھتے ہوئے فیصلے ہوں گے۔