Cloud Front
Senat

سینٹ اجلاس : ہندو شادیوں سے متعلق قانون وضع کرنے کے بل دو ہزار سولہ کی منظوری

بچوں کے حقوق اورقومی کمیشن کی تشکیل کے بل 2017 کو بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا
پی آئی اے خسارے میں جارہی ہے، حکومت کچھ اقدامات لے رہی ہے،شیخ آفتاب احمد

اسلام آباد : سینٹ نے ہندو خاندانوں کی شادیوں کے اہتمام اور ان سے منسلک امور سے متعلق قانون وضع کرنے کے بل دو ہزار سولہ کی منظوری دیدی ۔ بل وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا اس بل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے منظوری دی تھی اور اس سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی بھی بل کو منظور کیا جا چکا ہے بل میں سینٹیر فرحت اللہ بابر کی جانب سے ایک ترمیم کو متفقہ طور پر شامل کیا گیا جس میں شادی پرتھ کو بھی شامل کیا گیا سینٹ نے وزیر قانون کی جانب سے بچوں کے حقوق اور ان سے منسلک امور پر قومی کمیشن کی تشکیل کے بل دو ہزار سترہ پر تحریک کو بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔سینٹ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور دیگر سینیٹرکی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کارپوریشن کے ملازمین کی اس کی ذیلی کمپنی پاکستان ائر ویز لمیٹڈ میں تبادلے کی طرف کے حوالے سے توجہ مبذول کرانے کے نوٹس پر وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ پی آئی اے اس وقت خسارے میں جارہی ہے اس حوالے سے حکومت کچھ اقدامات لے رہی ہے لیکن اس کو ذیلی کمیٹی میں دینے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہواسینٹ میں قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی جانب سے وزارت خارجہ کے بجٹ پر وسط سال کا جائزہ پیش کیا گیا

سینیٹر ستارہ ایاز نے ملک میں خواجہ سراؤں کے حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی وزیر قانون نے کمپنیوں اور ان سے منسلک معاملات سے متعلق قانون میں اصلاح لانے اور اسے ازسرنو واضع کرنے کا بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا وزیر قانون کی جانب سے پاکستان ائر فورس ایکٹ 1953 میں مزید ترمیم کا بل متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا اجلاس میں سینیٹر شبلی فراز کی جانب سے خیبر پختونخوا تخت بھائی فلاور اوور منصوبے کی عدم تکمیل پر توجہ مبذول کرانے کے نوٹس پر انہوں نے کہا کہ اس فلائی اوور پر کام میں تاخیر کی جارہی ہے میں چھوٹا تھا اس وقت سے اس پر کام ہوتا دیکھ رہا ہوں مگر ابھی تک مکمل نہیں ہوا منصوبے کی تاخیر شاہد اس لئے کی جارہی ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کو سزا دی جاسکے کیونکہ انہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے انہوں نے کہا کہ اکتیس دسمبر دو ہزار سولہ کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی کہ منصوبے کو مکمل کیاجائے گا مگر ابھی تک مکمل نہیں ہوا اس پر شیخ آفتاب نے کہا کہ منصوبے کو فروری دو ہزار تیرہ سے شروع کیا گیا اور اس کی ابتدائی لاگت اٹھاون ارب سے زیادہ رکھی گئی تھی لیکن خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے اس پر اعتراض کیا گیا کہ اس کی چوڑائی کم ہے اور اس کی چوڑائی بڑھانے کیلئے وفاقی حکومت نے مطالبہ مان لیا اور اس کی چوڑائی بڑھانے سے اس کی لاگت میں اضافہ ہوکر پچاسی ارب سے زیادہ کا منصوبہ بند گیا ہے جو کہ اپریل میں ہی مکمل ہوجائے گا اور ٹریفک کیلئے کھولا جائے گا