Cloud Front
Corruption

لاڑکانہ خیر پور پل منصوبہ میں مبینہ طور پر ایک ارب52کروڑ57لاکھ کی کرپشن کا انکشاف

زرداری دور حکومت میں منصوبے پر اربوں روپے خرچ کئے گئے، ڈیڑھ ارب روپے زائد ٹھیکیدار کو ادا کر دیئے گئے،رپورٹ

اسلام آباد : نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے کرپٹ بیورو کریسی نے دریائے سندھ پر لاڑکانہ خیر پور پل منصوبہ میں مبینہ طور پر ایک ارب52کروڑ57لاکھ روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ کرپشن پل کی تعمیر کرنے والی تعمیراتی کمپنی ، پراجیکٹ ڈائریکٹر اور متعلقہ کنسلٹنٹ کی ملی بھگت سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ پل زرداری دور حکومت میں تعمیر کی گئی تھی اور پورے منصوبہ پر اربوں روپے خرچ کئے گئے جس میں ڈیڑھ ارب روپے زائد ٹھیکیدار کو ادا کر دیئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر جس کے خلاف اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں نے پل کے قریب کی تعمیر کی لمبائی اور اونچائی میں غلط معلومات فراہم کیں۔ معاہدے میں اپران کی تعمیر 2-27میٹر تھی جبکہ ادائیگی کے وقت24میٹر اونچائی ظاہر کی گئی ہے۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نے پل میں پتھر ڈالنے میں بھی غلط بیانی کر کے اضافی ڈیڑھ ارب روپے کا بل چیئر مین این ایچ اے سے منظور کرا لیا ہے جس کی اب اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں۔ معاہدے کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بڑے بڑے پتھر ڈالنے سے قبل متعلقہ انجینئرز کی نگرانی ضروری ہے لیکن متعلقہ مکینیکل سٹاف نے بھی پراجیکٹ ڈائریکٹر کے خلاف رپورٹ فراہم کر دی تھی۔ بل میں 90591424پتھر ظاہر کئے گئے ہیں تاہم اس کے کوئی دستاویزاتی ثبوت فائلوں میں موجود نہیں ہیں۔ پتھر ڈالنے کا واحد طریقہ آٹو کیڈ تھا لیکن یہ طریقہ کار بھی موقع سے غائب ہے۔

آڈٹ حکام نے موقعہ کا دورہ کر کے رپورٹ میں کہا ہے کہ پل کے اردگرد دریا میں پتھر ڈالے ہی نہیں گئے تو افسران کے ڈیڑھ ارب روپے کیسے ادا کر دیئے تھے اس کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہیئے۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے دوسرے سکینڈل میں قلات، چمن قومی شاہراہ کی تعمیراتی کمپنی سے348ملین روپے کے سکیورٹی بھی وصول نہیں کی گئی جبکہ نشتر گھاٹ پل کی انشورنس گارنٹی نہیں تھی اور ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچایا گیا جبکہ ٹریپ پل اٹک یارک ٹول پلازہ اور نارتھ پنجاب کے دو منصوبوں کی گارنٹی ڈیفالٹر انشورنس کمپنی سے وصول کر کے قومی خزانہ کو 7کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا تھا۔