Cloud Front
Shahryar

شرجیل اور خالد لطیف کی جانب سے باقاعدہ ریکارڈ کرایا گیا بیان پہلے سے مختلف ہے

شرجیل اور خالد لطیف کی جانب سے باقاعدہ ریکارڈ کرایا گیا بیان پہلے سے مختلف ہے،شہریار خان
بکی براہ راست رابطہ نہیں کرتے ، وہ رشتہ داروں یا سابق کھلاڑیوں کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں
کھلاڑیوں کو باقاعدگی سے انگلش اور اردو میں لیکچر دیے جاتے ہیں، دونوں کھلاڑیوں کو چارج شیٹ دے کر 14دن دیئے گئے ہیں ، چیئرمین پی سی بی کی بین الصوبائی رابطہ اجلاس میں بیان و میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد : پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ شرجیل خان اور خالد لطیف کی جانب سے باقاعدہ ریکارڈ کرایا گیا بیان پہلے سے مختلف ہے۔قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں شہریار خان نے کہا کہ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو علم تھا کہ اس طرح کا واقعہ ہونے والا ہے، پوری دنیا میں جہاں بھی ٹی 20 کرکٹ ہو وہاں فکسنگ ہوتی ہے، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی بکی آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بکی براہ راست رابطہ نہیں کرتے ، وہ رشتہ داروں یا سابق کھلاڑیوں کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں، بکی یوسف نے ناصر جمشید کے ذریعے شرجیل خان، خالد لطیف اور محمد عرفان سے رابطہ کیا۔

چیئرمین کمیٹی مشاہد اللہ خان کے استفسار پر چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ ہم نے آئی سی سی سے رابطہ کیا جس پر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پھر تو آپ کو تردید کرنی چاہیے تھی۔شہریار خان نے میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو باقاعدگی سے انگلش اور اردو میں لیکچر دیے جاتے ہیں، شرجیل اور خالد نے اقرار کیا کہ انہوں نے بکی کے رابطہ کرنے پر نہیں بتایا اور اسی بناء4 پر انہیں واپس بھجوایا گیا، پلیئرز کا ریکارڈ کرایا گیا بیان پہلے سے مختلف ہے، دونوں کو چارج شیٹ دے کر 14 دن دیے گئے ہیں جس کے بعد ہی اگلی کارروائی ہو گی جب کہ محمد عرفان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔