Cloud Front
Senat

فوجی عدالتوں کے معاملے پر پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ایک بار پھر بے نتیجہ ختم

فوجی عدالتوں کے معاملے پر پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ایک بار پھر بے نتیجہ،28 فروری کو دوبارہ طلب
دو تہائی کے باوجود سیاسی جماعتوں کو بائی پاس نہیں کرینگے،ایاز صادق،زاہد حامد
سپیکر قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر سے پھر رابطہ ،اجلاس میں شرکت کی درخواست ،خورشید شاہ نے آئندہ اجلاس میں شرکت کی یقین دہانی کرادی

اسلام آباد : فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر پارلیمانی جماعتوں میں اتفاق نہ ہوسکا ، سپیکر ایاز صادق اور وزیر قانون زاہد حامد نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پارلیمنٹ میں ہماری دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں کو فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر بائی پاس نہیں کرینگے اس پر اتفاق رائے پیدا کیاجائے گا ،پارلیمنٹ سے مشترکہ طور پر نئی آئینی ترامیم کو منظور کرائینگے ، 28 فروری کو حکومت نے دوبارہ اجلاس طلب کرلیا ، سپیکر نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے پھر رابطہ کر لیا ،شاہ جی اجلاس میں شرکت کریںیا نمائندہ بھیج دیں ۔ خورشید شاہ نے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری سے مشاورت کے بعد اجلاس میں شرکت کی یقین دہانی کرا دی ۔ اجلاس میں ایم کیو ایم اور پی پی پی نے آئینی مسودے میں ڈیڑھ سال کی ترمیم کی تجویز پیش کی ہے ۔جمعہ کے روز سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں دو اجلاس ہوئے جس میں ایک قومی اسمبلی میں اور ایک سینٹ میں پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان نے بھی شرکت کی جبکہ ذیلی کمیٹی میں بیرسٹر سیف اور طلحہ محمود کو شامل کیا گیا ہے فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پرایم کیو ایم نے آئینی ترمیم میں مذہبی دہشتگردی کے الفاظ پر شدید احتجاج کیا فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت تین سال کی بجائے ڈیڑھ سال کی توسیع ہونی چاہیے کمیٹی اجلاس میں مسودہ میں استعمال ہونے والے مذہبی دہشتگردی کے الفاظ پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا تین سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی تحریک انصاف ایم کیو ایم نے جمعیت علمائے اسلام کیخلاف مشترکہ طور پر آئینی مسودے میں نئی تجاویز شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے جو آئندہ اجلاس میں پیش کی جائینگی تینوں جماعتوں نے آئندہ اجلاس میں مشترکہ طور پر نئی تجاویز شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اپوزیشن جماعتوں نے تجویز دی ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر نئی کمیٹی بنائی جائے

وہ کمیٹی فوجی عدالتوں کی کارکردگی پر بھی مستقبل میں نگرانی کرے گی وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں ایک سب کمیٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں حکومت نے 23 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کردیا جس کے تحت فوجی عدالتوں کی مدت میں تین سال کی بجائے دو سال کرنے رضا مندی ظاہر کردی گئی ہے پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے کہا کہ حکومت نے ریاست کیخلاف کارروائی کے الفاظ میں بھی ترمیم میں شامل کردیئے ہیں حکومتی مسودہ جو نیا آیا ہے اس سے اپنی پارٹی قیادت میں پیش کرینگے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر متفق ہیں سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور ایوان میں ہماری دو تہائی اکثریت ہے لیکن پھر بھی اپوزیشن جماعتوں کو بائی پاس کرکے فوجی عدالتوں میں توسیع نہیں کرینگے وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں متفق ہو جائیں تو فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع کی جاسکتی ہے مولانا فضل الرحمان کے سوال پر آئینی الفاظ میں کچھ الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے ریاست کیخلاف سنگین اور پرتشدد کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا 23ویں آئینی ترمیم کا مسودہ جلد پارلیمانی کے رہنماؤں کو ارسال کرینگے انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھجوایا جائیگا آئندہ اجلاس اٹھائیس فروری کو ہوگا اور تمام جماعتیں قیادت سے مشورے کے بعد اپنی رائے دینگی