Cloud Front
debat

پاکستان کا ہر فرد پیدائشی طور پر 1 لاکھ 15 ہزار روپے تک کا مقروض

سال 2017 سے 2020 کے دوران پاکستانی بانڈز کی مدت معیاد مکمل ہونے پر حکومت 2 ارب 75 کروڑ ڈالر ادا کرنے کی پاپند ہو گی

لاہور: پاکستان کا ہر فرد پیدائشی طور پر 1 لاکھ 15 ہزار روپے تک کا مقروض ہے۔ ملکی مجموعی قرضوں کا حجم 23 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔معیشت کا پہہ چلانے کی خاطر گذشتہ کئی دہائیوں سے ہر آنے والی حکومت نئے قرضے کا بوجھ عوام پر چھوڑ جاتی ہے جس کے باعث پاکستان پر بیرون اور مقامی قرضوں کا حجم 23 ہزار ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جس میں 8 ہزار ارب روپے کا بیرونی قرض اور 15 ہزار ارب روپے کا مقامی قرضہ شامل ہے۔

قرض جس سے بھی لیا جائے آخر قرض تو قرض ہی ہوتا ہے اور واپس بھی کرنا ہی ہوتا ہے۔ سال 2017 سے 2020 کے دوران پاکستانی بانڈز کی مدت معیاد مکمل ہونے پر حکومت 2 ارب 75 کروڑ ڈالر ادا کرنے کی پاپند ہو گی۔ دوسری جانب آئندہ دو سال کے دوران ہی پیرس کلب اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادئیگیاں بھی شروع ہو جائیں گی۔ واضح رہے کہ پیرس کلب کے 11 ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضوں کو 2001 میں ری شیڈیول کیا گیا تھا۔