Cloud Front
Smoking

ملک بھر میں80 لاکھ افراد نشے کے عادی،روزانہ700 موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں،رپورٹ

نوجوانوں میں شیشہ کا بڑھتا ہوا استعمال بھی منشیات کے عادی افرادکی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، منشیات فروخت کرنے والوں کو معاشرتی دہشت گردقرار دیا جائے،طبی ماہرین

سمیت ملک بھر میں 80لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں اور منشیات کے استعمال سے روزانہ 700افراد موت کا شکار ہورہے ہیں۔ جبکہ نوجوانوں میں شیشہ کا بڑھتا ہوا استعمال بھی منشیات کے عادی افرادکی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، منشیات فروخت کرنے والوں کو معاشرتی دہشت گردقرار دیا جائے آن لائن کے مطابق یونیورسٹی کے سینئر ٹیوٹر آفس کے زیراہتمام وفاقی وزارت منصوبہ بندی و اصلاحات کے پلیٹ فارم سے ینگ ڈویلپمنٹ کورکی شراکت سے منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا تھاکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں میں مشغول رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر ان کی تعمیری مصروفیات بڑھا کر منشیات سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر منشیات کے استعمال کے ساتھ ساتھ ایسے عوامل کی بھی حوصلہ شکنی کرناہوگی جن کی وجہ سے انسانی نفسیات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر منشیات میں پناہ ڈھونڈتی ہے ۔

ان کا مزیدکہنا تھا کہ لڑکپن میں بہت سے نوجوان تفریح کے طو رپر منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں تاہم وقت کے ساتھ وہ عام صحت مند انسانوں سے بہت دور چلے جاتے ہیں سیمینار سے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں ،سینئر ٹیوٹر ڈاکٹر اطہر جاوید خاں‘ ڈاکٹر محبوب احمد‘ڈاکٹر عاصم عقیل اور ماہر غذائیات بینش اسد نے بھی خطاب کیا۔یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپس میں سگریٹ کی فروخت نہ صرف مکمل طور ممنوع قرار دی گئی ہے بلکہ سگریٹ بیچنے والے دوکاندار کا ٹھیکہ بھی فوری طو رپر منسوخ کر دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ناظم اُمور طلبہ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ کیمپس نیوز کے ذریعے بھی منشیات کے خلاف شعور اُجاگر کیا جا رہا ہے جس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ اس موقع پرمعروف معالج ڈاکٹر آصف باجوہ نے کہا کہ منشیات کے عادی افرادکی تعداد میں وقت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ لڑکپن کے دوستوں کا اصرار اور تفریحی رغبت ہے ۔ انہوں نے منشیات فروخت کرنے والوں کو معاشرتی دہشت گردقرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کرنا چاہئے۔