Cloud Front

فوجی عدالتیں توسیع ترمیمی بل ایوان سے منظور کرانے کیلئے حکومت نے کوششیں تیز کر دیں

مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں سے رابطے ،وزیر اعظم کا زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ بھی متوقع

اسلام آباد : حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق رائے کے بعد فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق ترمیمی بل کو 6 مارچ کو قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔ حکمران جماعت بل کو اتفاق رائے سے پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے لئے سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے رابطہ کر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نواز شریف اور زرداری میں ٹیلی فونک رابطہ متوقع ہے ۔ ذرائع کے مطابق حکمران جماعت مسلم (ن) کی جانب سے فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق ترمیمی بل کو قومی اسمبلی سے 6 مارچ کو اتفاق رائے سے منظور کرایا جائے گا ۔ پارلیمنٹ کی 17 سیاسی جماعتوں اور 9 آزاد ممبران اسمبلی نے اس ترمیمی بل کی منظوری پر اتفاق کیاہے جبکہ پیپلزپارٹی نے اس کی پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان اجلاس میں حصہ نہیں لیا اور واک آؤٹ کیا ۔ پارلیمنٹ میں جن 17 سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں میں توسیع کے ترمیمی بل پر اتفاق کیا ہے ۔

پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر 442 کا ایوان ہے جس میں حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کو تمام سیاسی جماعتوں پر برتری حاصل ہے ان کے اراکین کی تعداد 189 ، پیپلزپارٹی 47 ، پاکستان تحریک انصاف 33 ،متحدہ قومی موومنٹ 24 ، جمعیت علماء اسلام 13 ، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل 5 ، جماعت اسلامی 4 ، پختونخواہ عوامی ملی پارٹی 4 ، نیشنل پیپلزپارٹی 2 ، پاکستان مسلم لیگ2 ، عوامی نیشنل پارٹی 2 ، بلوچستان نیشنل پارٹی ، قومی وطن پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ضیاء ، نیشنل عوامی مسلم لیگ ، عوامی حیدری اتحاد پاکستان آل پاکستان مسلم لیگ کی ایک ایک نست ہے ۔ 442 کے ایوان میں 9 آزاد ممبران اسمبلی بھی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں ۔ حکومتی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد میں شامل نہیں ہیں مجموعی طور پر پارلیمنٹ کے 6 مارچ کے اجلاس میں اس ترمیمی بل ( فوجی عدالتوں میں توسیع ) کی منظوری دیں گے ۔ پارلیمنٹ میں 442 کے ایوان میں 441 ایوان میں موجود ہیں ایک نشست پر انتخابات باقی ہیں فوجی عدالتوں میں 2 سال کی توسیع پر پارلیمنٹیرین نے اتفاق کیا ہے فوجی عدالتوں میں توسیع کا اطلاق 7 مارچ 2017 سے ہو گا ۔ 6 مارچ کو قومی اسمبلی سے اسے متفقہ طور پر منظور کرایا جائے گا ۔