Cloud Front

ایرانی فلمیں اب پاکستانی سینماؤں کی زینت بنیں گی

پاکستان فلم پروڈیوسرزایسوسی ایشن کی جانب سے برادر اسلامی ملک ایران سے آئے ہوئے ہوئے فلمی صنعت کے افراد کے استقبال میں دعوت کا انعقاد کیا ۔ جس میں پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور افراد بھی موجود تھے ۔یاد رہے کہ ایرانی فلمی صنعت کے یہ افراد مبشر لقمان پروڈکشنز کی دعوت پر پاکستان آئے اور رائل پام لاہور میں ایرانی فلموں کے فیسٹیول کا بھی انعقاد کیا گیا۔
مبشر لقمان نے مہمانوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو دنوں میں جو فیسٹیول منعقد کیا گیا حالانکہ حالات صحیح نہیں تھے اور جس دن ایرانی دوست آئے اسی دن بلاسٹ بھی ہوا لیکن یہ خوش آیند بات ہے کہ بہت سی فیملیز نے آکر یہ فلمیں دیکھیں۔اور ایرانی سینما کو بہت زیادہ پذیرائی ملی۔خوشی اس بات کی ہے کہ ایرانی موویز ایسی ہیں کہ جو ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں۔
ہمارے درمیان جو یہاں حضرات بیٹھے ہیں ان میں بہت بڑی تعداد پروڈیوسرز کی ہے۔ڈسٹری بیوٹرز بھی ہیں ،ایکہیبیٹرز ہیںاور رایٹرز بھی ہیں۔یعنی فلم انڈسٹری کی بھرپور طریقے سے یہاں نمائندگی ہو رہی ہے۔
ہماری اور ایرانی فلم انڈسٹری کے فلم کی تاریخ کچھ ملتی جلتی ہے کیوں کہ جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا تو وہاں پھر فحش اور فضولیات فلمیں بنانا ممکن نہیں رہا توفلم انڈسٹری کے پاس صرف دو راستے تھے یا تو یہ مر جاتے خودکشی کر لیتے یا دوسری فلمیں بناتے اور پھر انھوں نے اچھے راستے کا انتخاب کیا اور معیاری اخلاق سے بھرپور فلمیں بنانا شروع کیں ۔اور آج ایرانی فلمیں آسکر ایوارڈ لے رہی ہیں۔ اور دنیا میں بہت نام پیدا کیا ۔ پاکستان میں بھی mlo81کے بعدفلمیں بنانا ناممکن ہوگیا۔اور چند لوگ تھے جیسا کہ یہاں چوہدری اعجازکامران صاحب بیٹھے ہیں جو ان حالات میں بھی دیوانہ وار فلمیں بناتے رہے ہیں۔ اور آج الحمد اللہ ایسے حالات بن گئے ہیں کہ پاکستان اور ایران دونوںکا اور فلم انڈسٹری کا باہم اشتراک بھی ہوسکتا ہے۔آج کی اس محفل کا مقصد ایک تو یہ تھا کہ ہم مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کریں دوسرے ان کے ساتھ ایک کھلی ملاقات ہو جس میں کوئی بھی پروڈیوسر،ڈائریکٹر وغیرہ ان کو ساتھ مل بیٹھ سکیں اور اگر کسی نے ان کے ساتھ فلم بنانی ہے یا سینما سے متعلق بات ہو تو وہ کریں۔وہ اپنی فلمیں پاکستان میںریلیز کروانا چاہتے ہیںہم ایرانی فلموں کو اردو میں ڈب کر کے پاکستان میں دکھانا چاہتے ہیںاور پاکستان کی فلمیںایران فیسٹیول میں جائیں۔5فلموں کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ۔ جس کے لئے ایکمیکر ہمارے درمیان بیٹھے ہیں۔ایران میں دو ماہ بعد بڑا فلم فیسٹیول ہے وہاں پر انشا اللہ ہماری فلمیں جائیں گی۔میری ذاتی خواہش یہ ہے کہ اسے ایک تقریب پر ختم نہیں ہونا چاہئے آپ لوگ ایک دوسرے سے رابطہ بنائیںاس میں کوئی ججھک نہیں ہونی چاہئے یہ پورے پاکستان کے لئے یہاں موجود ہیں اور پورے پاکستان کو ان سے رابطے میں رہنا چاہئے۔میں اکبر برخورداری صاحب کا بھرپور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی محنت کے بغیر یہ فیسٹیول نہیں ہو سکتا تھا۔میں یہ کہوں گا کہ پاکستان کے اندر کیوں کہ پاکستان کے باہر تو لوگ نہیں جانتے کہ ایک فرد واحد پاکستان فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کا ہے جس نے باقاعدہ خون سے اس انڈسٹری کے جھنڈے کو اٹھا کر رکھا ہے۔ وہ چوہدری اعجازکامران ہے۔یہاں پر جو افراد بیٹھے ہیں ان کے درمیان 1500فلمیں بن چکی ہیں ۔یہ پاکستان کی واحد انڈسٹری ہے جو اٹھ کر دوبارہ کھڑی ہوگئی ہے۔
مبشر لقمان نے کہا کہ ہم نے ایرانی فلم ڈائریکٹر شہریار بحرانی جو اس وقت یہاں موجود ہیں ان کا نام سنا تھا مجید مجیدی کا بھی نام سنا تھا۔ہم نے ان کی فلم ملک سلیمان دیکھی ہم سب وہاں ،وجود تھے اور آخر میں کھڑے ہوکر ان کے فلم کی داد دینی پڑی۔
خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر جنرل اکبر برخورداری نے کہا کہ مبشر لقمان صاحب نے کہا کہ یہ میری کوششیں ہیں جبکہ میں کہتا ہوں کہ یہ خود بہت مہربان ہیںاور تمام زحمتیں ان کی ہیں۔میں اعجاز چوہدری صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس فلمی صنعت کو دوبارہ بیدار کر رہے ہیں۔میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ہماری فلموں نے مسلسل دوبارہ آسکر ایوارڈاس سال بھی لیا ہے اور یہ ہماری فلمی صنعت کے لئے باعث افتخار ہے۔میں جناب شہریار بحرانی صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر تشریف لائے۔یہ ہماری فلم انڈسٹری کی قابل قدر شخصیت ہیں۔جیسا کہ آپ نے ملک سلیمان فلم دیکھی اور اسے بہت پسند کیا ان کی ایک اور فلم مریم مقدس بھی ہے جو اگر آپ دیکھیں تو یقیناً اس سے زیادہ پسند کریں گے۔ہماری انڈسٹری میں بہت کم لوگ پائے جاتے ہیں جو ڈائرکٹنگ کے علاوہ ٹریننگ بھی دیتے ہوں۔لیکن جناب شہریار بحرانی ایسی شخصیت ہیںجو یونیورسٹی کی سظح پر باقاعدہ آرٹسٹوں کو تربیت بھی دیتے ہیں۔
یہ فیسٹیول واقعی نامساعد حالات میں منعقد کیا گیا لیکن لوگوں کے بھرپور طور پر اس میں شرکت کی میری خواہش ہے کہ اسے ابتدائ سمجھا جائے اورآگے چل کر ہم مل کر کام کر سکیں۔دونوں برادر ممالک پاکستان اور ایران کے بہت سے فرہنگی مشترکات ہیں۔اسی طرح ہمارا دشمن بھی مشترکہ ہے۔جو ایران کے لئے سختیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سازشیں کر رہے ہیں۔وہ پاکستان کے لئے بھی یہی مشکلات کھڑی کر رہے ہیں اس کا واحد حل یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اکھٹے ہوکردشمن کامقابلہ کریں۔ ہماری سینما کے لوگوں نے جس طرح مشکلات کا سامنا کیا اور سختیوں کے باوجود بے پناہ کامیابیاں حاصل کیں اسی طرح مجھے خوشی ہے کہ آپ کی انڈسٹری بھی اسی کوشش میں پھر اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ہم اس معاملے میں بہت کام کر رہے ہیں اور بڑی بڑی نمائشوں کا انعقاد کرتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ پاکستان دوست بھی اس سے فائدہ اُٹھائیں اور ان نمائشوں میں شرکت کریں۔جب ہم ہر کسی کو ان نمائشوں میں شرکت کا موقع فرراہم کرتے ہیں تو کیوں نہ ہمارے برادر مسلمان ملک پاکستان سے بھی ہنر مند ان فیسٹیولز میں شرکت کریں۔اسی طرح ایرانی فلموں کو بھی پاکستانی نمائشوں میں شریک ہونا چاہئے جیسا کہ مبشر صاحب نے فرمایا کہ ہم آہنگی تعلقات پربہت اثر ابداز ہوتی ہے۔میں ایک دفعہ پھر مبشر صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ان کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے۔
ادارہ حوزہ ہنری کے کلچرل ونگ کے سربراہ جواد سمنانی نے کہا کہ حوزہ ہنری ایران کا ایسا ادارہ ہے جہاں سینما کی تمام سہولیات موجود ہیں۔اور میں اپنی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ ان اس صنعت میںشروع سے آخر تک تعاون کے لئے تیار ہیں۔ایران میںحوزہ ہنری کے سربراہ جناب مومنی آپ کے اس استقبال سے بہت خوش ہیں اورانھوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔
کریم خانی نے کہا کہ اگر میں سینما کی بات کروں توواقعاًسینما ملک کے لوگوں کی زبان بیان کرتا ہے۔اور ان کے جذبات بیان کرتا ہے۔میں نے کچھ دن یہاں رہ کر دیکھا کہ یہاں کے لوگوںکے پیغام کو پوری دنیا کے سامنے لانا چاہئے اور ہم اس میں ہر ممکنہ مدد کے لئے تیار ہیں۔
معروف ایرانی فلم ڈائریکٹر شہریار بحرانی نے کہا کہ میں آپ لوگوں کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں یہ چند دن جو میں نے آپ کے درمیان گزارے ہیں واقعی میں میں یادوں کا ایک مجمع میں اپنے ساتھ لئے واپس جا رہا ہوں۔میں ایرانی آرٹسٹوں کی جانب سے ،چونکہ میں ان کا چھوٹا سا نمائندہ یہاں پر موجود ہوں۔معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہہمیں یوں محسوس ہتو تھا کہ ہمارے پاکستانی بھائی کسی دور کے ملک میں رہتے ہیں۔جن سے ہم مل نہیں پارہے۔لیکن انشا اللہ ہماری اس ملاقات کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔میری نظر میں سینما کسی بھی انسان کے دل اور روح پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس لئیے اس اثر لو لوگوں تک لانا چاہئے کیونکہ سینما احساسات کو بیان کرنے کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ہم نے ایک اچھا دوست ایک اچھا آرٹسٹ مبشر لقمان اس سفر میں پایا ہے۔ اور اسی طرح جو دوسرے دوست یہاں موجود ہیں اور وہ دوست جنھوں نے فیسٹیول کے انعقاد میں حصہ لیا۔اور ان کی محبتوں نے ہمارے دلوں کو روشن کیا اور ہم ایران میں ہمیشہ ان کو یاد رکھیں گے۔
چوہدری کامران نے کہا کہ میں اپنی پوری انڈسٹری کی طرف سے پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ہم معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں ہم آپ سے ہر طرح تعاون کرنے کو تیار ہیں۔انشا اللہ فلمیں لینے کے لئے بھی ہم آپ سے رابطے میں رہیں گے ۔
تقریب کے آخر میں مہمانوں کو ایوارڈ تقسیم کرتے ہوئے مبشر صاحب نے کہا کہ یہ ایوارڈز آپ کواس لئے دئے جا رہے ہیں کہ آپ کو یہاں کی یاد دلاتے رہیں گے۔