Cloud Front
UNO

حلب کو چھڑانے کیلئے شامی حکومت کی جانب سے قیامت ڈھانا جنگی جرم ہے، اقوام متحدہ

نیویارک: شامی شہر حلب میں خون کی ندیاں بہا دینے کے بعد امن تو قائم ہوا مگر شہر مکمل طور پر تباہی اور ویرانی کی تصویر بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حلب کو چھڑانے کیلئے شامی حکومت کی طرف سے جو قیامت ڈھائی گئی وہ جنگی جرم ہے۔اقوام متحدہ نے حلب سے متعلق جاری اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ حلب کو چھڑانے کیلئے شامی حکومت کی جانب سے جو قیامت ڈھائی گئی وہ جنگی جرم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقی حلب سے آبادی کے انخلا کے دوران شہریوں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے، لوگوں کو جبراً گھر سے نکالا گیا۔سیرین آبزرویٹری کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق شام میں سترہ ماہ سے جاری روسی بمباری سے ایک ہزار سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ روسی فوج کی بمباری کے نتیجے میں گیارہ ہزار تین سو بارہ عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ادھر عالمی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل اسٹیفن ٹاؤنسنڈ کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں اب بھی بارہ سے پندرہ ہزار دہشتگرد موجود ہیں جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔