Cloud Front
Senat

ملک میں ادویات کے معیار کے لئے 4 ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم

وزارت سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی میں اب تک 4074 رجسٹرڈ ایمپلائمنٹ پرموٹرز ہیں جو پرائیویٹ طور پر لوگوں کو باہر بھجواتے ہیں، پاکستان میں فٹ بال کی 38 فیڈریشن ہیں جن کے آپس میں جھگڑے چل رہے ہیں حکومت ان فیڈریشن کو 6 لاکھ سے 35 لاکھ روپے دینے کو تیار ہے،شیخ آفتاب احمد

اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ ملک میں ادویات کے معیار کے لئے 4 ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی ہیں جن میں تین اسلام آباد میں اور ایک کراچی میں موجود ہے ۔ وزارت سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی میں اب تک 4074 رجسٹرڈ ایمپلائمنٹ پرموٹرز ہیں ۔ جو پرائیویٹ طور پر لوگوں کو باہر بھجواتے ہیں ان کے کیسز ایف آئی اے کے پاس چل رہے ہیں پاکستان میں فٹ بال کی 38 فیڈریشن ہیں جن کے آپس میں جھگڑے چل رہے ہیں حکومت ان فیڈریشن کو 6 لاکھ سے 35 لاکھ روپے دینے کو تیار ہے نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیٹیز اینڈ کوآرڈینیشن کے ماتحت ہے اور اس نے این ای ایم ایل 216 وضع کر رکھا ہے جس کی بنیاد پر عالمی ادارہ صحت کی ضروری ادویات فہرست 208پر رکھی گئی ہے اس حوالے سے 415 ادویات کی لسٹ بنا بنا دی گئی ہے پاکستان بوسٹ کی آمدنی میں باقاعدہ اضافہ ہو رہا ہے این 45 نوشہرہ سے شروع ہو کر چترال تک جانا ہے اور اس پر 1100 ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران جواب دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ این 45 کو سی پیک کا حصہ بنانے کے لئے فزیبلٹی بنائی جا رہی ہے فنڈز کے مطابق اس پر عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل کو 2017 میں ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ تخت بھائی فلائی اوور برج کے منصوبے کو اپریل میں عام ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا ۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے سوال کے جواب میں کہا کہ فاٹا میں ایک کلو میٹر روڈ نہیں بنی جس پر شیخ آفتاب نے کہاکہ فاٹا کو پہلے 19 ارب روپے مل رہے تھے اب 21 ارب روپے میں روڈ وغیرہ سب اس میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے گزشتہ پانچ سالوں مثن کنٹریکٹروں کی بلیک لسٹنگ کے لئے کے لئیمقدمات کو پی ای سی کے حوالے کے لئے ہے ان میں ایم ایس زرعون انٹرپرائز ، ایم ایل سی ایم ڈی ، ایم ایس سرور کنسٹرکشن پرائیویٹ لمٹیڈ اور ایم ایس کنٹری ڈویلپمنٹ کارپوریشن ، ایم ایس ایم این کنسٹرکشن کمپنی شامل ہیں لیکن ابھی تک پاکستان انجیئرنگ کونسل نے کوئی فرم بلیک لسٹ نہیں کی ۔