Cloud Front
Donald Trump

ایف بی آئی چیف نے ٹرمپ الزامات مسترد کر دیے

سا بق صدر نے ٹرمپ یا ان کی انتخابی مہم کی فون کالز کی نگرانی کا حکم نہیں دیا تھا ،وزارتِ قانون ان الزا مات کو مسترد کر دے،جیمز کومی

واشنگٹن: امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مستردکر دیا ہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے حالیہ صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ان کے فون کی نگرانی کا حکم دیا تھا۔ امر یکی میڈیا کے مطابق جیمز کومی نے امریکی وزارتِ قانون سے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کو مسترد کر دیں۔کہا جا رہا ہے کہ ایف بی آئی ڈائریکٹر نے یہ تردید اس لیے جاری کی ہے کیونکہ ٹرمپ کا دعویٰ یہ غیر مصدقہ تاثر دیتا ہے کہ ایف بی آئی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔جیمز کومی کی اس تردید کے حوالے سے رپورٹ اخبار نیویارک ٹائمز نے شائع کی جبکہ اس کی این بی سی نیتصدیقکی۔اس سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے دوران نیشنل انٹیلیجنس کے ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا ان کی انتخابی مہم کی فون کالز کی نگرانی نہیں کی گئی تھی۔سابق ڈائریکٹر انٹیلیجنس جیمز کلیپر نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں کسی عدالتی حکم کا بھی معلوم نہیں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی وائر ٹیپنگ کی اجازت دی گئی ہو۔

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ان کے منتخب ہونے سے ایک ماہ قبل ان کی فون کالز ٹیپ کی تھیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ٹویٹ کی ذریعے کہنا تھا کہ ‘افسوس ناک! ابھی معلوم ہوا ہے کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں میری جیت سے ایک ماہ قبل میرا ‘فون ٹیپ کیا’۔ کچھ نہیں ملا، یہ مشتبہ کارروائی ہے۔اس کے جواب میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے فون کالز کی نگرانی کے الزامات بالکل جھوٹے ہیں۔سابق صدر اوباما کے ترجمان کیون لوئس کا کہنا تھا کہ نہ تو صدر اوباما اور نہ ہی ان کی انتظامیہ کے کسی اہلکارنے کبھی کسی امریکی شہری خفیہ نگرانی کا کوئی حکم جاری کیا۔جیمز کلیپر کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے طور پر انھیں ایسے کسی بھی عدالتی حکم کا معلوم ہوتا اور وہ اسے خیال کو بالکل رد کر سکتے ہیں۔تاہم انھوں نے کہا کہ وہ دیگر حکومتی اداروں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔این بی سی سے بات کرتے ہوئے جیمز کلیپر نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران صدر ٹرمپ کی انتخابی ٹیم اور روسی حکومت کے درمیان کسی معاونت کے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔