Cloud Front

افغان ایران بارڈر پر نگرانی مزید سخت، درجنوں نئی چوکیاں بنانے کا فیصلہ

چوکیاں دشوار گزار راستوں اور بلوچستان میں قائم ہو نگی ، فوج ، ایف سی ، کسٹمز ، ایف آئی اے ، پولیس، انٹیلی جنس اہلکار تعینات ہونگے ، اداروں نے رپورٹس کی تیاری شروع کر دی

اسلام آباد: آپریشن رد الفساد کے تحت ایران ، افغانستان کے ساتھ سرحد کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، دشوار گزار راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی ، یہ چیک پوسٹیں کوسٹل ہائی وے ، آر سی ڈی شاہراہ کے علاوہ پاکستان کے ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈر پر مختلف مقامات پر بنائی جائیں گی ، بلوچستان میں ان چیک پوسٹوں میں فوج ، ایف سی ، کسٹمز ، ایف آئی اے ، لیویز ، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے افسر و اہلکار تعینات ہوں گے ،

چیک پوسٹوں پر جدید سکینرز بھی نصب کیے جائیں گے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق افغانستان کے بارڈر کے ساتھ بلوچستان کے علاقے میں 400 کلومیٹر خندق سمیت بہت سے اقدامات پہلے سے کئے جا چکے ہیں لیکن پہلی مرتبہ ایران کے ساتھ بھی بارڈر کی نگرانی کو فول پروف بنایا جا رہا ہے کیونکہ کلبھوشن سمیت دہشت گردی اور شر پسندی میں ملوث بعض عناصر ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا اختر منصور بھی ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے ، جب انہیں ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ چیک پوسٹوں کی تعمیر کے حوالے سے کام شروع ہو گیا ہے اور متعلقہ ادارے رپورٹس تیار کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس کا مقصد دہشت گردوں اور شر پسندوں کی نقل و حمل پر نظر رکھنے اور انہیں پکڑنے کے علاوہ سمگلنگ کا خاتمہ ہے۔ ایران اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ چیک پوسٹیں ایسے مقامات پر بنائی جائیں گی جہاں پہلے کوئی خصوصی چیک نہیں تھا اور آمد و رفت کے لئے اگرچہ دشوار گزار لیکن ایسے مقامات موجود تھے جہاں سے غیر قانونی نقل و حمل ہو سکتی تھی۔ ذرائع کے مطابق نئی چیک پوسٹوں کے قیام کے لئے وزارت داخلہ کے ساتھ وزارت خزانہ ، وزارت دفاع اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کی کوآرڈی نیشن جاری ہے ، آئندہ چند روز میں نئی چیک پوسٹوں پر کام شروع ہو جائے گا۔