Cloud Front
Ch Nisar

چوہدری نثار اور وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان کے مابین شدید اختلافات

وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کو آئل کمپنیوں کے ذمہ اربوں کی پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصولی کا حکم دے رکھا ہے
شاہد خاقان عباسی نے ایف آئی اے کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر دئیے

اسلام آباد : وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے مابین آئل کمپنیوں سے پیٹرولیم لیوی کی وصولی پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ آئل کمپنیوں کے ذمہ اربوں روپے کی پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصولی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے جبکہ شاہد خاقان عباسی نے ایف آئی اے کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر رکھے ہیں۔ اعلیٰ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت پیٹرولیم جو کرپشن کا بڑا گڑھ بن چکاہے ،نے ایف آئی اے سے تعاون کرنے سے انکار کردیا ہے اور متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے سے بھی انکاری ہے تاہم ایف آئی اے نے دیگر ذرائع سے ریکارڈ حصال کرکے متعدد آئل کمپنیوں سے 800 ملین روپے سے زائد کی ریکوری کرکے قومی خزانہ میں جمع کرا رکھی ہے۔ قواعد کے مطابق یہ زمہ داری شاہد خاقان عباسی کی تھی کہ وہ آئل کمپنیوں سے پیٹرولیم لیوی وصولی کیلئے خود ایف آئی اے سے رابطہ کرے اور ریفرنس بھیجے لیکن یہ از خود کارروائی چوہدری نثار علی خان نے کی ہے۔ وزارت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ شاہد خاقان وزیر داخلہ کے ساتھ سخت نالاں ہیں اور دونوں کے مابین ورکنگ تعلقات بھی کشیدہ ہیں تاہم ایف آئی اے نے ڈی جی آئل وزارت پیٹرولیم کے علاوہ ڈی جی کنسیشن کے خلاف بھی گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور ان کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اب تک کروڑوں روپے آئل کمپنیوں سے وصول کئے گئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق شاہد خاقان نے نثار کے خلاف شکایت بھی کی ہے اور وزارت کے امور میں دخل اندازی قرار دیا ہے۔