Cloud Front

سندھ خواتین اور بچوں پر تشدد کے حوالے سے سرفہرست جبکہ بلوچستان آخری نمبر پر

70فیصد عورتیں اور بچیاں قریبی افراد کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہورہی ہیں ، تنظیم مددگار
کے دوران مددگار نیشنل ہیلپ لائن نے8887افراد کی مدد کی،6294خواتین اور بچیاں تھیں،ضیاء احمد اعوان ایڈوکیٹ

کراچی: پاکستان کا صوبہ سندھ خواتین اور بچوں پر تشدد کے حوالے سے سرفہرست ہے جبکہ بلوچستان اس حوالے سے سب سے آخری نمبر پر ہے۔وکلاء برائے انسانی حقوق اور قانونی امداد کی تنظیم مددگار کے مطابق حکومت کو خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لئے جرأت مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔پاکستان میں 70فیصد عورتیں اور بچیاں اپنی زندگی میں ایک بار قریبی افراد کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہورہی ہیں،اقوام متحدہ کی خواتین کے ادارے کے مطابق 92فیصد خواتین پبلک مقامات پر جنسی تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں جبکہ تقریباً 70کروڑ خواتین کی شادی ان کے بچپن میں ہی ہوچکی ہوتی ہے اورایک اندازے کے مطابق ہر سال 246ملین بچے اور بچیاں اسکول میں ہونے والے تشدد کا سامنا کرتے ہیں ۔مددگار نیشنل ہیلپ لائن کے بانی اور بچوں کے قومی کمشنرضیاء احمد اعوان ایڈوکیٹ نے منگل کے روز خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 2016کے دوران مددگار نیشنل ہیلپ لائن نے8887افراد کی مدد کی جنہوں نے بذریعہ فون ہیلپ لائن کے دفاتر میں آکر یا بذریعہ ایس ایم اے ،ای میل اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس ہم سے رابطہ کیا۔ا ن میں6294خواتین اور بچیاں تھیں جن کی عمریں5تا75سال کے درمیان تھیں باقی افراد میں نوجوان اور لڑکے شامل ہیں۔

خواتین پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ7561مقدمات سندھ سے ہیلپ لائن کو رپورٹ ہوئے اور سب سے کم306مقدمات بلوچستان سے رپورٹ ہوئے۔ اس فرق کے پیچھے بدامنی،وکلا برادری کی ٹارگٹ کلنگ، قانون کے نفا ذمیں کمزوریاں ،قانونی اور حفاظتی خدمات کی عدم موجودگی اور مجموعی طور پر سماجی،ثقافتی اور مذہبی رکاوٹین وہ وجوہات ہیں جو افراد باالخصوص خواتین اور بچوں کو تشدد کرنے والوں کے خلاف رپورٹ کرنے اور آگے آنے سے روکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مددگار نیشنل ہیلپ لائن کے اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر رپورٹس مارچ 2016میں1553اور سب سے کم جولائی میں466آئیں۔مددگار نیشنل ہیلپ لائن میں رپورٹ ہونے والے مسائل کی نوعیت سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بچپن کی شادی کے118،سائبر کرائم کے162،خواتین لاپتہ ہونے کے213،ذہنی تشدد کے793،جسمانی تشدد کے337،انسانی اسمگلنگ کے5، اقدام قتل کے10،جنسی زیادتی کے5،سوڈومی کے6،غیر قانونی حراست کے16،جلائے جانے کے3،لاپتہ بچوں کے2251،اغواء کے293،گھریلو تشدد کے2092،کاروکاری کے18اور ہراساں کرنے کے562مسائل ہیلپ لائن میں موصول ہونے والی کل رپورٹوں میں شامل ہیں