Cloud Front

بھارت خواتین کے لیے غیرمحفو ظ تر ین ملک قرار

بھارت میں ہر چار گھنٹے بعد خواتین جنسی تشدد کا شکار بنتی ہیں جبکہ ہر آدھے گھنٹے بعد عام گھریلوتشدد کا شکار بننے میں بھارت 10ویں نمبر پر ہے ،ایمنسٹی انٹرنیشنل
دنیا بھر میں 700ملین خواتین کی جبرََا شادی جبکہ 52%فیصد 18سال سے کم لڑکیوں کی شادی عام رواج ہے ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان ،، سندھ اورخیبر پختون خواہ میں ایسے واقعا ت عا م ہیں ، رپو رٹ

لندن : دنیا بھر میں 700ملین خواتین کی جبرََا شادی جبکہ 52%فیصد 18سال سے کم لڑکیوں کی شادی عام رواج بن گیا لندن ، برطانیہ میں 43%فیصد خواتین کو سڑکوں پر ہراساں کیا جاتا ہے جبکہ 90%فیصد جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بھارت میں ہر چار گھنٹے بعد خواتین جنسی تشدد کا شکار بنتی ہیں جبکہ ہر آدھے گھنٹے بعد عام گھریلوتشدد کا شکار بننے میں بھارت 10ویں نمبر پر ، بروکونا فاسو 7ویں نمبر پر پاکستان 21ویں ، آزادکشمیر28ویں نمبر پر سرفہرست مقبوضہ کشمیر میں 11ہزار 8سو28خواتین زیادتی کا شکار بنی ، شام میں 10ہزا ر 540خواتین قتل ہوئی جبکہ 30ہزار سے زائد جنسی تشدد کا نشانہ بنی ، ایران 11%فیصد، عراق 19%فیصد ،

برما 45%زیادتی کا شکار بنے ، یو این او کی رکن انسانی حقوق کی تنظیم’’ ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘‘کی جانب سے جاری کردہ خواتین کے انسانی حقوق کے دن پر رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 1975کے بعد سے آبادی کا 39%فیصد ممالک نے انسانی حقوق اور خواتین پر تشدد سمیت دیگر جرائم پر کنٹرول کیا جبکہ دنیا بھر میں 700ملین خواتین کی جبرََا شادی کروائی جاتی ہے جن میں یورپ 9ویں نمبر ،جبکہ جنوبی ایشیاء پہلے نمبر پر سر فہرست ہیں جن میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان ،، سندھ اورخیبر پختون خواہ کے واقعات سامنے آئیں ہیں جبکہ آزادکشمیر گزشتہ 5سالوں سے سر فہرست ہے دوسری جانب دنیا بھر کی 18سال سے کم 52%فیصد لڑکیوں کی شادیاں جبرََا کروانے کاعام رواج ہوگیا ہے جن میں 15سے16سال کی لڑکیوں کی شادی کروانے پر بروکونا فاسو دنیا کے 7ویں نمبر پر سر فہرست ہے 1993ء میں اقوام متحدہ نے اس کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دی تھی جبکہ تیونس میں جنس مردوں اور عورتوں کے لئے ایک عام رواج ہے 1990ء میں 20لاکھ خواتین جو غریب طبقے سے تعلق رکھتی تھی جنسی تشدد کا شکار بنی ہیں دوسری جانب لندن اور برطانیہ میں نوجوان خواتین کی ایک بڑی تعداد جو 43فیصد ان کو سڑکوں پر ہراساں کیا جاتا ہے جبکہ 90فیصد جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں جبکہ ایک چھوٹی سی ریاست آزادکشمیر میں گزشتہ پانچ سالوں میں 5سوخواتین تشدد کا نشانہ بنی 22قتل ہوئی42خواتین کی ابر ریزی اور ریپ کے کیسز سامنے آئیں جن کو پولیس کے ڈر اور بااثر افراد کے خوف کی وجہ سے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ریپ کا شکار بننے والی خواتین غائب ہوگئی جبکہ 15تیزاب اور جلائے جانے کے واقعات سامنے آئے دوسری جانب پاکستان اور آزادکشمیر میں ونی کاروکاری ، اور وٹے سٹے کے کیس منظر عام پر زور پکڑ رہیں ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو روکنے میں مکمل ناکام ہوگئے 2017ء میں کیوبا 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے کی کوشش اسلام آباد میں طیبہ تشدد کیس بھی دنیا کی توجہ کا مرکز ہے جو انسانی حقوق کی شدیدپامالی ہے۔