Cloud Front

محسن انسانیتؐ کی توہین نہ روکی گئی تو پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائیگی ،جسٹس صدیقی

وزارت داخلہ مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کے معاملے پر آج ہی ایکشن لے، ویب سائٹس سے گستاخانہ مواد ہٹایا جائے،چیف جسٹس ہائیکورٹ کے ریمارکس
چوہدری نثار کی جگہ سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے، سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت (کل)پھر ہو گی

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ محسن انسانیت حضرت محمدؐ کی توہین نہ روکی گئی تو پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائیگی ،وزارت داخلہ مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کے معاملے پر آج ہی ایکشن لے، ویب سائٹس سے گستاخانہ مواد ہٹایا جائے۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت اسلام ہائیکورٹ میں شروع ہوئی تو چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ اب تک آپ نے کوئی کارروائی کی ہے، معاملہ بہت حساس ہے جلد از جلد اس کو حل کیا جائے،

اس معاملے پر آج ہی ایکشن لیں اورگستاخانہ مواد آج ہی بلاک کریں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگرہم نے محسن انسانیت کی توہین نہ روکی توپاکستان میں خانہ جنگی شروع ہوگی،ہم دیگرممالک کے اداروں کی نہیں صرف اپنے اداروں کے بارے بات کرتے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کیس کی روزانہ کی بنیاد پرسماعت کروں گا، جو بھی ملوث ہے ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی آج بھی عدالت میں آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ جب سے اس کیس سے متعلق پتہ چلامیں 10دن سے سویا نہیں ہوں، میں نے حلف اٹھایا ہے ملک، آئین اور اپنے ضمیر کا۔کیس کی سماعت کیلئے چیئرمین پی ٹی اے اسماعیل شاہ،سیکرٹری داخلہ عارف خان اور آئی جی اسلام آباد طارق مسعود پیش ہوئے جبکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان آنکھ کے آپریشن کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ مسلمان ہونے کے ناطے ایسے موادکوئی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔چیف جسٹس نے سماعت (کل)جمعرات تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ آج آپ جو بھی ایکشن لیں عدالت کو آگاہ کریں